حقیقی نتائج سے ہمیشہ دور ہی رہے ہیں ایگزِٹ پول، لوگوں کو 23 مئی کا انتظار

سبھی ایگزٹ پول میں این ڈی اے کی زبردست واپسی کا دعویٰ کیا ہے۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایگزٹ پول پر بھروسہ کر سکتے ہیں؟ جواب ہے نہیں۔ کیونکہ ابھی تک اکثر ایگزٹ پول غلط ثابت ہوئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

لوک سبھا انتخاب ختم ہونے کے ساتھ ہی نتائج پر خامہ فرسائی شروع ہو گئی ہے۔ 19 مئی کی شام کو مختلف نیوز چینلز نے ایگزٹ پول کے ذریعہ اپنا اندازہ بھی ظاہر کر دیا۔ سبھی چینل یہ دعویٰ کرتے نظر آئے کہ ان کا ایگزٹ پول سب سے بہتر ہے اور وہی درست بول رہے ہیں۔ سبھی چینلوں میں ایک بات جو یکساں ہے وہ یہ کہ سبھی این ڈی اے کی زوردار واپسی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایگزٹ پول پر بھروسہ کر سکتے ہیں؟ کیا کاؤنٹنگ کے پہلے ایگزٹ پول کے قیاس کو درست ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب ہے نہیں۔ کیونکہ ابھی تک ہوئے زیادہ تر ایگزٹ پول غلط ہی ثابت ہوئے ہیں۔

بھلے ہی یہ ایگزٹ پول این ڈی اے اقتدار کی واپسی کرا رہی ہو، لیکن زیادہ تر ایگزٹ پول پوری طرح سے فیل ہوئے ہیں۔ ایگزٹ پول میں بی جے پی کو سبقت دکھائی گئی لیکن حقیقی نتائج آئے تو انھیں بری طرح سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ آج ہم ایگزٹ پول کی تاریخ کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں جسے جان کر آپ ایگزٹ پول پر بھروسہ کم ہی کریں گے۔

2004 لوک سبھا انتخاب: ایگزٹ پول میں بی جے پی کو فتح، اصل میں ملی شکست

2019 کی طرح ہی 2004 لوک سبھا انتخاب میں بھی سبھی ایگزٹ پول نے بی جے پی کو فتحیاب ہوتا دکھایا تھا۔ اس سال سبھی ایجنسیوں نے این ڈی اے کو اوسطاً 255 سیٹیں دی تھیں۔ لیکن جب نتائج آئے تو این ڈی اے 200 کا عدد بھی نہیں چھو سکا۔ 2004 لوک سبھا انتخاب میں این ڈی اے کو 189 سیٹیں ملی تھیں۔ وہیں بی جے پی صرف 138 سیٹوں پر محدود ہو گئی تھی۔ سبھی نیوز چینلز کے اندازوں پر پانی پھر گیا تھا۔ ایگزٹ پول میں یو پی اے کو 183 سیٹیں دی گئی تھیں، لیکن حقیقت میں 222 سیٹیں ملی تھیں۔

2009 میں بھی ایگزٹ پول کو کیا گیا مسترد

2009 لوک سبھا انتخاب میں بھی چینلوں نے ایگزٹ پول کیا اور یو پی اے حکومت کی وداعی طے کر دی۔ لیکن نتائج بے حد حیران کرنے والے آئے۔ یو پی اے 2004 سے بھی زیادہ سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی تھی۔ اس انتخاب کے ایگزٹ پول میں یو پی اے کو 199 سیٹیں دی گئی تھیں، جب کہ این ڈی اے کو 197۔ لیکن حقیقیت میں یو پی اے کو ملی تھیں 262 سیٹیں اور لگاتار دوسری بار منموہن سنگھ ملک کے وزیر اعظم بنے۔

2015 بہار اسمبلی الیکشن میں بھی فیل ہوئے ایگزٹ پول

2015 میں ہوئے بہار اسمبلی انتخاب میں بھی ایگزٹ پول فیل ہو گئے تھے۔ سبھی نے بہار میں بی جے پی کو سبقت دکھائی تھی۔ لیکن نتیجے بے حد حیران کرنے والے آئے تھے۔ جنتا دل یو-آر جے ڈی-کانگریس اتحاد نے بہار میں زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔ بی جے پی صرف 58 سیٹوں پر محدود ہو گئی تھی۔ اس الیکشن میں مہاگٹھ بندھن کو 178 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔

چھتیس گڑھ اسمبلی انتخاب میں بھی ایگزٹ پول ثابت ہوا غلط

گزشتہ سال 2018 میں ہوئے چھتیس گڑھ اسمبلی انتخاب میں بھی ایگزٹ پول کا حال بہار اسمبلی انتخاب کی طرح ہی ہوا تھا۔ سبھی ایجنسیوں نے بی جے پی کو اوسطاً 40 سیٹیں دی تھیں جب کہ کانگریس کو 46 سیٹیں ملنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ لیکن نتیجے حیران کرنے والے آئے۔ بی جے پی محض 15 سیٹیں اور کانگریس نے 68 سیٹوں پر کامیابی درج کی۔

ابھی حال ہی میں آسٹریلیا میں ہوئے عام انتخاب میں بھی سبھی ایگزٹ پول ناکام ثابت ہوئے تھے۔ آسٹریلیا میں ہوئے ایگزٹ پول میں برسراقتدار لبرل پارٹی کو شکست کھاتا ہوا دکھایا گیا تھا۔ اپوزیشن لیبر پارٹی کو اکثریت مل رہی تھی۔ لیکن نتیجے برسراقتدار لبرل پارٹی کے حق میں آئے۔

Published: 20 May 2019, 10:10 PM