دارالعلوم دیوبند کے کارگزار مہتمم مولانا قاری سید عثمان منصورپوری کا انتقال

قاری عثمان کی ممتاز خدمات میں سے ایک تحفظ ختم نبوت ہے۔اکتوبر1986ء میں عالمی اجلاس تحفظ ختم نبوت کا انعقاد ہوا، جس کے آپ کنوینر تھے۔

مولانا قاری سید عثمان منصورپوری
مولانا قاری سید عثمان منصورپوری
user

یو این آئی

نئی دہلی: ازہر ہند دارالعلوم دیوبند کے سینئر استاذِ حدیث ومعاون مہتمم، جمعیۃ علماء ہند کے صدر، امیرشریعت اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے داماد مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری کا آج یہاں مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ وہ گزشتہ پندرہ دنوں سے بیمارتھے اور گوڑگاَؤں کے ایک پرائیویٹ میں زیر علاج تھے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی عمر 76 سال تھی۔ پسماندگان میں دو بیٹے مفتی سید سلمان منصوری اور مفتی سید عفان منصوری اور ایک بیٹی ہے۔ ان کی جسد خاکی کو دہلی سے دیوبند لے جایا جائے گا جہاں مزار قاسمی میں ان کی تدفین عمل میں آئے گی۔ان کی جسد خاکی کو جمعیۃ علمائے ہند کے صدر دفتر دہلی رکھا گیا ہے جہاں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور اس کے بعد پھر جسد خاکی دیوبند لے جائی جائے گی۔ان کے انتقال کی وجہ سے علمائے دیوبند، دارالعلوم دیوبند اور جمعیۃ علمائے ہند کا عظیم خسارہ ہوا ہے جس کی تلافی مشکل نظر آرہی ہے۔

خاندانی ذرائع کے مطابق قاری عثمان نے جمعہ کو سوا ایک بجے آخری سانس لی۔ تقریباً 15 روز سے دیوبند میں گھر پر ہی زیر علاج تھے۔ دو روز قبل گروگرام کے ایک نجی ہسپتال میں داخل کرائے گئے تھے۔ان کی پیدائش ضلع مظفرنگر کے قصبہ منصور پور میں 12اگست 1944کو ہوئی تھی۔ ابتدائی تعلیم آپ نے ابتدائی تعلیم وطن میں حاصل کی اور حفظِ کلام اللہ والد مرحوم کے پاس کیا۔ پھر فارسی درجات سے دورہئ حدیث تک مکمل تعلیم مادرِ علمی دارالعلوم دیوبند میں حاصل کی اور 1965 میں فراغت حاصل کی۔ ہمیشہ امتیازی نمبرات سے کامیاب ہوتے رہے۔ 1966ء میں شیخ القراء حضرت قاری حفظ الرحمن صاحبؒ اور قاری عتیق صاحبؒ سے تجوید و قرأت کا فن حاصل کیا۔ ادیبِ اریب مولانا وحید الزماں کیرانویؒ سے عربی زبان و ادب میں کمال حاصل کی ور امیر الہند حضرت مولانا سیّد اسعد مدنیؒ سے سلوک و معرفت کی تکمیل کی اور خلافت و اجازت سے مشرف ہوئے۔اس کے علاوہ قاری عثمانشیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی نوراللہ مرقدہ‘ کے داماد بھی تھے۔1966ء میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی نوراللہ مرقدہ‘ کی صاحبزادی عمرانہ خاتون سے آپ کا عقد مسنون ہوا۔ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ نے نکاح پڑھایا تھا۔


قاری عثمان کے والدِ گرامی نواب سیّد محمد عیسیٰ مرحوم انتہائی متمول رئیس اور زمیندار تھے۔ اسی کے ساتھ نہایت صالح، متقی اور حد درجہ پابندِ شریعت۔خلافِ شرع امور کے لیے ان کی طبیعت میں کوئی گنجائش نہ تھی۔ اولاد کو علم وعمل سے آراستہ کرنے کا بے پناہ جذبہ اور انتہائی لگن تھی، اس کی خاطر گھر چھوڑ کر دیوبند میں اقامت اختیار کرلی تھی۔1963 میں دیوبند ہی میں انتقال ہوا۔ مزارِ قاسمی میں مدفون ہیں۔ فراغت کے بعد انہوں نے مدرسہ قاسمیہ گیا اور جامع مسجد امروہہ میں تدریسی خدمات انجام دی تھیں۔ قاری عثمان 1982میں دارالعلوم دیوبند سے وابستہ ہوئے اور تقریباً 40 سال سے دارالعلوم دیوبند میں علمی خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ فی الحال دارالعلوم دیوبند میں طحاوی اور مشکوٰۃ جیسی حدیث کی اہم کتابوں کا درس دے رہے تھے۔ اس کے علاوہ دارالعلوم دیوبند میں متعدد مرتبہ ناظم تعلیمات اور ناظم دارالاقامہ جیسی اہم ذمہ داریاں بحسن خوبی انجام دے چکے ہیں۔مولانا عثمان کو 1999میں دارالعلوم دیوبند کانائب مقرر کیا گیا تھا۔ 2020میں انہیں کارگزار مہتمم بنایا گیا۔

قاری عثمان منصوری پوری نے ملک و ملت بچاؤ تحریک میں بھی سرگرمی سے حصہ لیا تھا اور انہوں نے اس میں گرفتارییاں بھی دی تھیں۔جمعیۃ علمائے ہند سے ان کی پرانی وابستگی تھی اور وہ اس وقت جمعیۃ علمائے ہند محمود گروپ کے صدر تھے اور اسی کے ساتھ وہ امیرالہند بھی تھے۔ ان کی شناخت ایک صاف شفاف شبیہہ والے منتظم، استاذ کی تھی۔ وہ ہمیشہ تنازع سے پاک رہے۔ وہ ایک شفیق تربیت کرنے والے باصلاحیت طلبہ کی شناخت کرکے ان کی حوصلہ افزائی کرنے والے استاذ تھے۔ ان کی تربیت کا جلوہ ان کے دونوں صاحبزادے میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔


قاری عثمان کی ممتاز خدمات میں سے ایک تحفظ ختم نبوت ہے۔اکتوبر1986ء میں عالمی اجلاس تحفظ ختم نبوت کا انعقاد ہوا، جس کے آپ کنوینر تھے۔ اس موقع پر ’کل ہند مجلس تحفظ نبوت‘ کا قیام عمل میں آیا، آپ ناظم منتخب ہوئے، جس پر تادم واپسیں فائزر ہے۔ اس ادارہ نے ملک کے طول و عرض میں فتنہئ قادیانیت کی سرکوبی کے لیے عظیم تر خدمات انجام دیں، جو دارالعلوم کی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ یہ تمام خدمات آپ کی ایمانی حس و حمیت، انتھک جدوجہد اور بے پناہ جذبہ کا ثمرہ ہے۔ قاری صاحب کے دونوں فرزند مفتی سید محمد سلمان منصورپوری مدرسہ شاہی مرادآباد میں اور مفتی سید محمد عفان منصورپوری جامعہ مسجد امروہہ تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔