قومی

مولانا جوہر ہندوستان ہی نہیں عالم اسلام کے بھی قائد تھے: ظفر الاسلام

مولانا محمد علی جوہر اکیڈمی کے زیر اہتمام منعقدہ پر وگرام میں اہم شخصیات کو ایوارڈوں کی تفویض

تصویر پریس ریلیز
تصویر پریس ریلیز

پریس ریلیز

نئی دہلی۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین اور ملک کے معروف دانشور ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں نے کہا ہے کہ بیسویں صدی کا نصف اول مولانا محمد علی جوہر کا تھا۔ وہ صرف ہندوستان ہی کے نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کے قائد تھے۔ انھوں نے ان خیالات کا اظہار مولانا محمد علی جوہر کے یوم پیدائش پر مولانا محمد علی جوہر اکیڈمی کے زیر اہتمام انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں منعقدہ تیسویں تقریب تقسیم ایوارڈ میں کیا۔ اس موقع پر مختلف شعبہ ہائے حیات میں نمایاں خدمات انجام دینے کے اعتراف میں اہم شخصیات کو ایوارڈ تفویض کیے گئے۔ پروگرام کی نظامت معروف صحافی سہیل انجم نے کی۔

ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ ہم مولانا کی تیاریخ سے ناواقف ہیں۔ انھوں نے جنگ آزادی کی جو تحریک شروع کی تھی وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ اس وقت اتنا بڑا کوئی مسلم لیڈر نہیں تھا۔ کسی بھی مسلمان نے اتنی بڑی تحریک نہیں چلائی جتنی بڑی تحریک مولانا جوہر نے چلائی۔ وہ پورے عالم اسلام کے مسائل سے واقف بھی رہتے تھے اور دیگر ملکوں میں جا کر ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔ انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسا تعلیمی ادارہ قائم کیا جو آج ترقی کے منازل طے کر رہا ہے۔ جسٹس محمد سہیل اعجاز صدیقی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا محمد علی جوہر نے پہلے خلافت تحریک شروع کی تھی جو بعد میں جنگ آزادی میں تبدیل ہو گئی۔ لیکن ہم نے ان کی قربانیوں اور ان کی خدمات کو بھلا دیا ہے۔ بقول ان کے مولانا کا فکر و خیال اور ان کا جلال و جمال آنے والی نسلوں کو متاثر کرتا رہے گا۔ انھوں نے اصولوں اور قدروں کے لیے کام کیا تھا۔ انھوں نے یہ سبق پڑھایا تھا کہ نفرت کو محبت سے ختم کیا جا سکتا ہے۔

مہمان ذی وقار کی حیثیت سے بولتے ہوئے ڈاکٹر سید فاروق نے بھی مولانا محمد علی جوہر کی قربانیوں اور ان کی خدمات کو یاد کیا۔ انھوں نے کہا کہ مولانا نے جو کچھ کیا تھا ہم لوگ اس کو اس طرح یاد نہیں کر پاتے جیسا کہ ہمیں کرنا چاہیے۔ دہلی اردو اکادمی کے وائس چیئرمین پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ مولانا محمد علی جوہر کا احترام ڈاکٹر اقبال تک کیا کرتے تھے۔ اس تعلق سے انھوں نے پاکستان کے سینئر افسر اور مصنف مختار مسعود کا بھی حوالہ دیا جنھوں نے کہا تھا کہ میں مولانا محمد علی جوہر کی توہین قطعاً برداشت نہیں کر سکتا۔ نیوز پورٹل دی وائر کے ایڈیٹر سدھارتھ ورداراجن نے کہا کہ آج میڈیا اداروں نے اپنی ذمہ داری فراموش کر دی ہے۔ انھوں نے صحافتی اصولوں کو خیر باد کہہ دیا ہے۔ ایسا صرف اس لیے نہیں ہے کہ ان پر حکومت کا دباؤ ہے بلکہ اس لیے بھی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا چاہتے ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی پٹیالہ کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر جسپال سنگھ نے بابا فرید گنج شکر کے حوالے سے کہا کہ مسلمانوں اور سکھوں میں ایک روحانی رشتہ ہے جو کبھی بھی نہیں ٹوٹ سکتا۔ سنبل رضوی نے پناہ گزینوں بالخصوص روہنگیا پناہ گزینوں کی حالت زار پر روشنی ڈالی۔ جوہر اکیڈمی کے صدر پروفیسر خواجہ ایم شاہد نے خیرمقدمی کلمات میں مولانا محمد علی جوہر کی قربانیوں کی یاد تازہ کی اور کہا کہ ہمیں جس پیمانے پر انھیں یاد کرنا چاہیے ہم نہیں کر پاتے۔ پروگرام کو کامیاب بنانے میں اکیڈمی کے جنرل سکریٹری احمد ندیم کا زبردست رول رہا۔ ا س موقع پر ڈاکٹر جسپال سنگھ، سنبل رضوی، ڈاکٹر اطہر فاروقی، سدھارتھ ورداراجن، ڈاکٹر رخشندہ جلیل اور جلال الدین اسلم کو ایوارڈ تفویض کیے گئے۔ سہیل انجم نے ایوارڈ یافتگان کا سائٹیشن پیش کیا۔ پروگرام کا آغاز مولانا نثار احمد نقشبندی کی تلاوت قرآن سے ہوا اور شکریہ اکیڈمی کے نائب صدر ایم کے شیروانی نے ادا کیا۔