قومی

مولانا حسیب صدیقی نے اپنی خدمات کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں: مولانا محمود مدنی

تعزیتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مولانا محمود مدنی نے کہا، ’’مولانا حسیب صدیقی ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے اپنی خدمات کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: مولانا حسیب صدیقی ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے اپنی خدمات کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔یہ بات جمعیۃ علمائے ہند میں منعقدہ تعزیتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہی۔

انھوں نے کہا کہ مولانا حسیب صدیقی نے ملت اسلامیہ کی فلاح و بہبود کے لیے غیر سودی بنک کاری کو اپنا نصب العین بنایا - انہوں نے جمعیۃ علماء ہند کی تحریک پر 1961 میں قائم مسلم فنڈ سے وابستہ ہوئے اور تنکا تنکا جوڑ کراسے ایک تناور درخت بنادیا ۔ ایک وقت ایساتھا جب وہ اس ادارے کے خازن، مینیجر، محصل سب کچھ ایک ساتھ تھے ، سائیکل پر چلتے اور دکان دکان، گھر گھر جا کر لوگوں سے پچا س پچاس پیسے وصول کرتے اوراسے جمع کرتے، ایک وقت ایسا آیا جب اس ادارے کا’ ٹرن اوور‘ کروڑوں میں ہوا اور پھر اس توسط سے انھوں نے کئی تعلیمی اور رفاہی ادارے قائم کیے۔

اس موقع پر اپنے خطا ب میں مولانا مفتی محمد سلمان منصورپوری استاذ حدیث جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد نے مولانا حسیب صدیقی کی سادگی ، اخلاص ، ملنساری اور خدمت خلق پر خصوصی روشنی ڈ الی ۔ انھوں نے کہا کہ مولانا مرحوم جمعیۃ علماء ہند اور اس کی سرگرمیوں سے گہرا تعلق رکھتے تھے اور اس کی ہر آواز پر لبیک کہتے تھے ۔ابھی حال ہی جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام اکابر پر منعقد دور روزہ سیمینار میں پیرانہ سالی اور بیماری کے باوجود تمام نشستوں میں شریک ہوئے۔

تعزیتی اجلاس میں مولانا معزالدین احمد ناظم امارت شرعیہ ہند، مولانا محمد سالم جامعی ایڈیٹر اخبار الجمعۃ و شانتی مشن سمیت دفتر جمعۃ علماء ہند کے ذمہ داران اور آرگنائزر حضرات بھی موجود تھے ۔نشست ،مولانا مفتی سلمان منصورپوری کی رقت آمیز پراختتام پذیر ہوئی ۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں جمعۃ علماء ہند کے خازن اور دیوبند کی مقتدر شخصیت مولانا حسیب صدیقی کا سانحہ ارتحال ہوگیا تھا ۔