چھوٹی سیاسی پارٹیوں کے لئے مئو 'سیاست کا مکہ' ہے!

ماہرین کا ماننا ہے کہ راجبھر کی کوشش اس ’مہا پنچایت‘ کو اسمبلی انتخابات کے لئے ایک بڑے اتحاد کا اسٹیج بنانا ہے۔

تصویر ٹوئٹر @samajwadiparty
تصویر ٹوئٹر @samajwadiparty
user

یو این آئی

مئو: سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے صدر اوم پرکاش راج بھر نے اپنی پارٹی کے 19ویں یوم تاسیس کے موقع پر ایس پی کے صدر اکھلیش یادو کو اپنے اسٹیج پر بلاکر آنے والے اسمبلی انتخابات میں چھوٹی بڑی پارٹیوں کے اتحاد کو اسٹیج فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔

چھوٹی سیاسی پارٹیوں کے لئے 'سیاست کا مکہ' مانے جانے والے مئو میں بدھ کو راج بھر نے اپنی پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر منعقد عوام ریلی کو بی جے پی کے خلاف چھوٹی پارٹیوں کو متحد کرنے کے لئے'مہا پنچایت' کا نام دیا ہے۔ آنے والے اسمبلی انتخابات سے محض کچھ مہینے قبل اس بڑے سیاسی ڈیولپمنٹ کو سیاسی ماہرین اترپردیش کی سیاست میں ایک بڑا سیاسی قدم بتا رہے ہیں۔

تصویر ٹوئٹر @samajwadiparty
تصویر ٹوئٹر @samajwadiparty

ماہرین کا ماننا ہے کہ راج بھر کی کوشش اس مہا پنچایت کو اسمبلی انتخابات کے لئے ایک بڑے اتحاد کا اسٹیج بنانا ہے۔ اس بات کی بھی چہ میگوئیاں ہیں کہ اس اسٹیج پر پرگتی شیل سماج وادی پارٹی کے صدر شیوپال سنگھ یادو بھی پہنچ سکتے ہیں حالانکہ مئو میں ریلی شروع ہونے کے بعد اسٹیج پر اکھلیش اور راج بھر ہی نظر آئے۔

ماہرین کی رائے میں راج بھر کے اس اہم پروگرام کو صوبے کی راجدھانی لکھنؤ میں منعقد نہ کر کے مئو میں کرنے کے پیچھے کی وجہ ہی یہ ہے کہ مئو پوروانچل کی ایسی سرزمین ہے جسے چھوٹے و نو تشکیل شدہ سیاسی پارٹیوں کا 'مکہ' کہا جاتا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ ایس بی ایس پی، جن وادی پارٹی، راشٹرایہ جن وادی پارٹی سمیت درجن بھر سے زیادہ چھوٹی علاقائی پارٹیوں کا قیام مئو میں ہی ہوا ہے۔ پوروانچل کے بہار سے منسلک اترپدیش کے مئو، غازی پور، اعظم گڑھ، بلیا، دیوریا وغیرہ اضلاع کو مرکز مانا جاتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان اضلاع میں کافی پسماندہ ذاتوں میں شمار راج بھر، چوہان، نونیا، پاسی، ون واسی، کوری، کمہار، گونڈ، دھرکار، کشواہا وغیرہ کی ملی جی آبادی پائی جاتی ہے۔

ذات پات کی بنیاد پر تشکیل شدہ سیاسی پارٹیوں کے لئے ذاتیاں ایک مضبوط بنیاد کا کام کرتی ہیں۔ اوم پرکاش راج بھر بھلے ہی وارانسی ضلع کے رہنے والے ہیں لیکن ان کی سیاسی سرگرمیاں مئو، بلیا، اور غازی پور اضلاع پر ہی مرکوز رہتی ہیں۔ راج بھر بھی ان اضلاع میں سیاسی طور سے کافی سرگرم ہیں۔ یہاں ان کی پارٹی کا ان اضلاع میں مضبوط بنیاد ہے۔ ایسے میں ایس پی سربراہ اکھلیش یادو کا ایس بی ایس پی سربراہ اوم پرکاش راج بھر کی قیادت میں مئو واقع ہلدھر پور کے اسٹیج پر پہنچنا کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔ اس سے ایس پی کو آنے والے اسمبلی انتخابات میں عوامی حمایت کو بڑھانے میں مدد ملنے کی امید ہے۔


قابل ذکر ہے کہ اترپردیش کے پوروانچل علاقے میں 28 اضلاع کی 164 اسمبلی سیٹیں ہیں۔ یہ 403 سیٹوں والی اسمبلی کا 33 فیصدی حصہ دری ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ان میں سے 115سیٹوں پر حکمراں جماعت بی جے پی نے جیت درج کی تھی جبکہ ایس پی کو 17 اور بی ایس پی کو 14سیٹیں ملی تھیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔