دسہرہ میں راون کا پُتلا نذر آتش کرنے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ

’متھرا لنکیش بھکت منڈل‘ نے صدر جمہوریہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دسہرہ کے موقع پر راون کا پُتلا نذر آتش کیے جانے پر پابندی عائد کریں کیونکہ یہ مناسب نہیں ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

متھرا: اتر پردیش میں متھرا لنکیش بھکت منڈل نے صدرجمہوریہ رام ناتھ کوند کو خط بھیج کر دسہرہ کے موقع پر راون کے پتلے کو نظر آتش کرنےپر پابندی لگانے کامطالبہ کیا ہے۔ منڈل کے صدر و سینئر وکیل اوم ویر سارسوت نے منگل کو یہاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رام لیلا کے ذریعہ راون کی جو تصویر عام لوگوں کے سامنے پیش کی جاتی ہے اور جس طرح سے ان کا پتلہ نذر آتش کیا جاتا وہ مناسب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ راون نہ صرف طاقتور تھا بلکہ وہ ایک اسکالر، معلم اورکافی مہذب بھی تھا ، شیو بھکت راون کی انہیں خوبیوں کی وجہ سے جب شری رام نے رامیشورم میں سمندر پر پل بنانے کے لئے زمین کی پوجا کرنے کا عزم کیا تو انہوں نے راون کو اس کے لئے مدعو کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پتلہ نذر آتش کرنا ہندوستانی تہذیب کی روایت کے عین مخالف ہے کیونکہ اس میں ایک اسکالر، معلم اور مہذب شخص کو کمتر بتا کر اس کے پتلے کو نذر آتش کیا جاتا ہے اس کا منفی اثر نئی نسل پر پڑتا ہے اوروہ اپنی تہذیب و ثقافت اور روایت سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیات کے تحفظ کے لحاظ سے بھی یہ غلط روایت ہے کیونکہ جب دسہرہ کے موقع پر راون اور میگھ ناتھ کے پتلوں کو جلایا جاتا ہے تو پتلوں میں پٹاخے وغیرہ کے لگانے اور ان کے پٹھنے سے آب و ہوا کافی آلودہ ہوجا تی ہے ۔ سارسوت نے یہ بھی کہا کہ راون کے پتلہ کو جلانے سے سارسوت برہمنوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے کیونکہ وہ راون کواپنا پیشوا مانتے ہیں۔

Published: 25 Sep 2018, 10:05 PM