متھرا کرشن جنم بھومی تنازعہ: الٰہ آباد ہائی کورٹ نے متھرا کورٹ کو سبھی عرضیوں کا نمٹارہ 4 مہینے میں کرنے کی دی ہدایت

متھرا میں شری کرشن جنم بھومی میں جو مندر ہے اسی سے ملحق عیدگاہ مسجد بھی ہے، عدالت میں کہا گیا ہے کہ جس جگہ پر مسجد بنائی گئی ہے وہیں پر کنس کی وہ جیل تھی جہاں شری کرشن کی پیدائش ہوئی تھی۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے متھرا شری کرشن جنم بھومی تنازعہ میں آج ایک اہم فیصلہ سنایا۔ اس معاملے میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے متھرا کورٹ کو چار مہینے میں اصل تنازعہ سے جڑی سبھی عرضیوں کو نمٹانے کی ہدایت دی ہے۔ بھگوان شری کرشن وراجمان کی طرف سے منیش یادو کے ذریعہ داخل عرضی پر سماعت کرتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ نے سنی وقف بورڈ و دیگر فریقین کے سماعت میں شامل نہ ہونے پر یک فریقی حکم جاری کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔

یہ سماعت جسٹس سلل کمار رائے کی سنگل بنچ میں ہوئی۔ عرضی متھرا کی عدالت میں جنم بھومی تنازعہ سے جڑے سبھی مقدموں کی سماعت جلد از جلد پوری کرنے اور ان کا فیصلہ سنائے جانے کے مطالبہ کو لے کر داخل کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ متھرا کی عدالت میں چل رہے سبھی مقدموں کو جوڑ کر ایک ساتھ سماعت کیے جانے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔


دراصل متھرا میں شری کرشن جنم بھومی استھان میں جو مندر بنا ہوا ہے، اسی سے ملحق عیدگاہ مسجد بھی ہے۔ عدالت میں کہا گیا ہے کہ جس جگہ پر عیدگاہ مسجد بنائی گئی ہے وہیں پر کنس کی وہ جیل تھی جہاں پر شری کرشن کی پیدائش ہوئی تھی۔ مغل حکمراں اورنگ زیب نے 70-1669 کے دوران شری کرشن جنم بھومی استھل پر بنے مندر کو توڑ دیا اور وہاں پر اس عیدگاہ مسجد کی تعمیر کروا دی تھی۔ ہندو فریقین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس مسجد احاطہ کے سروے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی جائے جو معائنہ کر کے بتائے کہ کیا اس مسجد احاطہ میں ہندو دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں اور علامتی نشان موجود ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ یہاں پر اس مسجد سے پہلے ہندوؤں کا مندر ہوا کرتا تھا۔

حالانکہ عیدگاہ مسجد کے سکریٹری اور پیشے سے وکیل تنویر احمد کے مطابق جو لوگ مسجد کو مندر کا حصہ بتا رہے ہیں وہ دلیلوں کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ ایسا اس لیے کیونکہ تاریخ میں کوئی بھی ایسی بات نہیں ہے جو یہ بتاتی ہو کہ مسجد کی تعمیر مندر کو توڑ کر کی گئی تھی یا شری کرشن کی پیدائش اس جگہ پر ہوئی تھی جہاں پر موجودہ عیدگاہ مسجد بنی ہوئی ہے۔


مسلم فریق کی طرف سے عدالت میں ایک اور دلیل انتہائی اہمیت کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے، اور وہ ہے 1991 کا ورشپ ایکٹ۔ مسلم فریق کے مطابق اس ایکٹ میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ ملک میں 1947 سے پہلے مذہبی مقامات کو لے کر جو حالات تھے، انہیں اسی طرح برقرار رکھا جائے گا اور اس میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی۔ حالانکہ اس میں رام جنم بھومی کا تنازعہ استثنیٰ تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔