معروف باورچی سنجیو کپور کی نئی ڈِش ’ایگس کیجریوال‘ نے مچائی دُھوم

ایک ٹوئٹر ہینڈل سے لکھا گیا ہے’’اللہ کا شکر ہے اس زمین پر مودی کے نام سے کوئی ڈِش نہیں ہے ورنہ اسے کھانا انسان کے لیے سب سے زیادہ مضر ہوتا اور وہ صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

تنویر احمد

لذیذ، ذائقہ دار اور بے مثال کھانا بنانے کے لیے پوری دنیا میں مشہور سنجیو کپور کی ایک نئی ڈِش پچھلے دو تین دنوں سے خوب شہرت حاصل کر رہی ہے۔ اس نئی ڈِش کا نام ہے ’ایگس کیجریوال‘۔ اس کو بنانے کا طریقہ سنجیو کپور نے گزشتہ 9 مارچ کو اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر شیئر کیا تھا اور ویڈیو میں بالکل نئے انداز کی ڈِش دیکھنے کو ملی تھی جس کو بریڈ کے ساتھ کھایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ ڈِش ذائقہ سے زیادہ اپنے نام کی وجہ سے مشہور ہو گئی ہے اور سوشل میڈیا پر طرح طرح کے رد عمل سامنے آ رہے ہیں۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے نام سے موسوم ہونے کے سبب اس کا خوب مذاق بن رہا ہے۔

سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر لوگوں کے تبصرے کافی دلچسپ ہیں اور ایک ٹوئٹر یوزر نمی ککریتی نے تو سنجیو کپور سے سوال کیا ہے کہ ’’سنجیو جی، اس بریک فاسٹ کو کھا کر میں ’دیش دروہیوں‘ (غدار وطن) جیسی حرکتیں تو نہیں کرنے لگوں گی۔‘‘ اسی طرح انو نامی ٹوئٹر ہینڈل سے سوال کیا گیا ہے کہ ’’اسے کھا کر کھانسی تو نہیں آئے گی... یا پھر اسے دھرنا، مورچہ، بھوک ہڑتال سے پہلے کھانا چاہیے؟‘‘

پروین کوٹین نامی ٹوئٹر ہینڈل سے انتہائی دلچسپ تبصرہ سامنے آیا ہے۔ انھوں نے اپنے تبصرے میں پی ایم نریندر مودی پر طنز کے تیر چلائے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں ’’اللہ کا شکر ہے اس زمین پر مودی کے نام سے کوئی ڈِش نہیں ہے ورنہ اسے کھانا انسان کے لیے سب سے زیادہ مضر ہوتا۔ وہ صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا۔ پیٹ کے اندر بھی کہیں زیادہ تیکھی، نفرت بھری اسپیچ شروع نہ ہو جائے۔‘‘ ایک ٹوئٹر ہینڈل سے طنزیہ انداز میں لکھا گیا ہے کہ ’’سنجیو، ہم بے صبری سے ملائم چکن اور ممتا فش کری کا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘ کچھ ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعہ سنجیو کپور سے’مودی قیمہ‘ اور ’راہل بریانی‘ بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

چونکہ کیجریوال نے دہلی میں آلودگی سے بچنے کے لیے گاڑیوں پر ’آڈ اینڈ ایون سسٹم‘ نافذ کیا تھا، اس لیے ایک ٹوئٹر ہینڈل سے اسے بھی طنز میں شامل کیا گیا ہے۔ سویتا ارون کمار نامی اس ٹوئٹر ہینڈل پر لکھا گیا ہے کہ ’’میں اس کا استعمال طاق دنوں میں وہائٹ بریڈ کے ساتھ کروں گی اور جفت دنوں میں براؤن بریڈ کے ساتھ کروں گی۔‘‘ اُڑتا تیر نامی ٹوئٹر ہینڈل سے بھی ایک انتہائی دلچسپ پوسٹ کی گئی ہے۔ اس میں لکھا گیا ہے کہ ’’کیا یہ کھانے لائق ہے؟ کہیں یہ اُلٹی کا سبب تو نہیں بنے گا جس طرح کہ کیجریوال ’یو ٹرن‘ میں ماہر ہیں۔‘‘

بہر حال، ’ایگس کیجریوال‘ پر مذاق بنانے اور طنز کے تیر چلانے والوں کے علاوہ کئی تبصرے ایسے تھے جو یہ جاننے کے خواہاں نظر آ رہے تھے کہ آخر اس ڈِش کا نام ’ایگس کیجریوال‘ کیوں رکھا گیا۔ جہاں تک اس نام کا سوال ہے تو حقیقت یہ ہے کہ اس کا تعلق دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال سے نہیں ہے۔ اور ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ ڈِش تو پوری دنیا میں بہت پہلے سے ہی مشہور ہے اور ممبئی میں ویلنگڈن کلب میں بھی کافی زمانے سے ’ایگس کیجریوال‘ فروخت ہو رہی ہے۔ ایگس کیجریوال ہیش ٹیگ سے جب آپ ٹوئٹر پر سرچ کریں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ 2014 اور اس سے پہلے بھی لوگوں نے اس ڈِش کا تذکرہ کیا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ڈِش دیوی پرساد کیجریوال نے تیار کی تھی اور اسی لیے اسے ’ایگس کیجریوال‘ کہا جانے لگا۔ اب چونکہ دہلی کے وزیر اعلیٰ کا نام بھی کیجریوال ہے تو سنجیو کپور کے ویڈیو کو وائرل ہونا ہی تھا۔

Published: 12 Mar 2019, 8:10 PM