دہلی کے نیچر بازار میں لگی زبردست آگ، 50 دکانیں جل کر راکھ، تحقیقات شروع

محکمہ فائر کی ٹیموں نے بروقت جوابی کارروائی کی اور آگ پر قابو پانے کے لیے انتھک محنت کی اور بالآخر آگ پر قابو پالیا گیا۔ تاہم آگ لگنے سے تقریباً 50 دکانیں مکمل طور پر جل گئیں۔

<div class="paragraphs"><p>فوٹو ویڈیو گریپ</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

قومی راجدھانی دہلی کے اندھیریا موڈ علاقے میں واقع نیچر بازار میں اتوار کی صبح زبردست آگ لگ گئی، جس سے بڑے پیمانے پر خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس بھیانک آتشزدگی میں تقریباً 50 دکانیں جل کر راکھ ہوگئیں۔ دہلی فائر سروس (ڈی ایف ایس) کے ایک اہلکار نے بتایا کہ آگ لاڈو سرائے علاقے میں اندھیریا موڑ کے قریب واقع نیچر بازار میں لگی جس میں دستکاری اور دیگر سامان فروخت کرنے والی کئی عارضی اور نیم مستقل دکانیں ہیں۔ حادثے میں ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ آگ لگنے کی وجوہات کا پتا لگایا جارہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق محکمہ فائر کو اتوار کو صبح تقریباً 7:37 بجے نیچر بازار میں آگ لگنے کی کال موصول ہوئی جس کے بعد فوری طور پر فائر ڈپارٹمنٹ نے ردعمل دیتے ہوئے 10 فائر انجنوں کو جائے وقوعہ پر روانہ کیا۔ آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے فائر فائٹرز نے فوری طور پر کام سنبھال لیا اور آگ پر قابو پانے کے لیے جنگی پیمانہ کوششیں شروع کر دیں۔


محکمہ فائر کی ٹیموں نے بروقت جوابی کارروائی کی اور آگ پر قابو پانے کے لیے انتھک محنت کی اور بالآخر آگ پر قابو پالیا گیا۔ تاہم آگ لگنے سے تقریباً 50 دکانیں مکمل طور پر جل گئیں۔ آگ لگنے کی وجہ کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ آتشزدگی میں اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم آگ سے تاجروں کو کافی مالی نقصان پہنچا ہے۔ جلی ہوئی دکانوں میں رکھا سامان، نقدی اور دیگر قیمتی چیزیں جل کر تباہ ہو گئے۔ انتظامیہ نے نقصان کا تخمینہ لگانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

 متعلقہ حکام کو آگ لگنے کی وجوہات کا پتا لگانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اب اس بات کا تعین کرنے کی کوششیں کی جارہی ہے کہ آیا آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی، کوئی اور وجہ ہے یا یہ کسی سازش کا نتیجہ ہے۔ پولیس اور محکمہ فائر کی ٹیمیں اس معاملے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔