مراٹھا ریزرویشن تحریک: جرانگے نے کہا ’اگر حکومت مطالبات نہیں مانتی ہے تو پیر سے پانی بھی نہیں لوں گا‘

منوج جرانگے نے کہا کہ ’’کل سے میں پانی پینا بند کر دوں گا، کیونکہ حکومت میرے مطالبات نہیں مان رہی ہے۔ جب تک ریزرویشن کا مطالبہ پورا نہیں جاتا میں واپس نہیں جاؤں گا۔ خواہ کچھ بھی ہو جائے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>منوج جرانگے پاٹل</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ممبئی کے آزاد میدان میں منوج جرانگے پاٹل کی قیادت میں اتوار (31 اگست) کو تیسرے دن بھی ’مراٹھا ریزرویشن تحریک‘ جاری رہا۔ اس دوران مظاہرین نے سخت موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطالبات آئینی طور پر جائز ہیں۔ واضح ہو کہ جرانگے مراٹھا برادری کے لیے 10 فیصد ریزرویشن کے مطالبے کو لے کر جمعہ (29 اگست) سے جنوبی ممبئی کے آزاد میدان میں بھوک ہڑتال پر ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مراٹھاؤں کو دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) میں شامل زرعی برادری کنبی کے طور پر تسلیم کیا جائے، تاکہ انہیں سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں ریزرویشن حاصل کر سکیں۔ حالانکہ او بی سی لیڈر اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

جرانگے نے اپنے مطالبات پورے نہ ہونے تک ممبئی نہ چھوڑنے کا عزم دوہراتے ہوئے کہا کہ ’’حکومت کے پاس 58 لاکھ مراٹھاؤں کے کنبی ہونے کا ریکارڈ ہے۔‘‘ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج سندیپ شندے کی قیادت میں ایک وفد سے ملاقات کے بعد بھی جرانگے کے موقف میں کوئی نرمی نہیں آئی ہے۔


منوج جرانگے نے کہا کہ ’’کل سے میں پانی پینا بند کر دوں گا، کیونکہ حکومت میرے مطالبات نہیں مان رہی ہے۔ جب تک ریزرویشن کا مطالبہ پورا نہیں جاتا میں واپس نہیں جاؤں گا۔ خواہ کچھ بھی ہو جائے، ہم او بی سی زمرہ کے تحت مراٹھاؤں کو ریزرویشن دلا کر رہیں گے۔‘‘ دوسری جانب ممبئی ٹریفک پولیس نے ’ایکس‘ پر کہا کہ ’’آزاد میدان میں تحریک اب بھی جاری ہے، مظاہرین سی ایس ایم ٹی جنکشن پر موجود ہیں، جس کی وجہ سے علاقے اور آس پاس کے جنکشنوں پر ٹریفک متاثر ہو رہی ہے۔ گاڑی والوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ان راستوں پر جانے سے بچیں اور اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے متبادل راستے اختیار کریں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔