لاک ڈاؤن میں 3 مئی تک توسیع کے درمیان زبردست دباؤ میں کئی وزارتیں

مرکزی وزیر برائے ٹرانسپورٹ نتن گڈکری کے سامنے ضروری سامانوں کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ ہے، تو مرکزی وزیر برائے صنعت پیوش گویل کے سامنے صنعتوں کو بچانے کا زبردست دباؤ ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے جاری 21 دنوں کے ملک گیر لاک ڈاؤن کی مدت ختم ہونے پر پی ایم مودی نے منگل کی صبح اسے بڑھا کر 3 مئی کر دیا ہے۔ اس لاک ڈاؤن کے درمیان پورے ملک میں تمام طرح کی صنعتیں اور کاروبار پوری طرح سے ٹھپ ہو گئے ہیں۔ تمام دفاتر میں کام بند ہیں، تجارتوں پر تالے لٹک گئے ہیں اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔

ہندوستان میں پہلے 21 دن کے لاک ڈاؤن اور اب اسے 3 مئی تک توسیع کیے جانے کے بعد کورونا انفیکشن پر جہاں قابو پانے کی کوشش ہوئی ہے، وہیں اب مودی حکومت کے سامنے دوسرے کئی بڑے چیلنج کھڑے ہو گئے ہیں۔ مودی حکومت کے سامنے ملک کو پٹری پر لا کر حالات معمول کرنے کی ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ کام کاج ٹھپ ہو جانے سے تمام سیکٹروں میں چھٹپٹاہٹ کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس سے کئی وزارتوں پر بھی زبردست دباؤ بن گیا ہے۔ وزارت مالیات، وزارت برائے ٹرانسپورٹ، وزارت ریل، وزارت برائے ٹیلی مواصلات، وزارت برائے فروغ انسانی وسائل سمیت حکومت کے کئی محکموں کے سامنے کورونا انفیکشن سے بچتے ہوئے صنعتوں کو بچانے کا چیلنج ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔

وزارتوں کی بات کریں تو وزارت برائے ٹرانسپورٹیشن اور مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹراپرائزیز کے وزیر نتن گڈکری کے سامنے لاک ڈاؤن میں ضروری سامانوں کی فراہمی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ملک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے ضروری سامانوں کی آمد و رفت میں پریشانی ہو رہی ہے۔ وزیر برائے صنعت پیوش گویل کے سامنے صنعتوں کو بچانے کا بھاری دباؤ ہے، جب کہ وزیر برائے خوردنی اشیاء فراہمی رام ولاس پاسوان کے سامنے بھی ملک بھر میں کھانے کی اشیاء فراہم کرنے اور اس کی تقسیم کا مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے۔

فیڈریشن آف انڈین مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزیز کے انل بھاردواج کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا سوال ہے کہ چھوٹی اور درمیانی صنعتیں ان حالات میں روزانہ کا خرچ کیسے چلائیں اور ملازمین کو تنخواہ کہاں سے دیں؟ دوسرا بڑا مسئلہ صنعتوں کے سامنے عمارتوں کا کرایہ، بجلی کا بل، صاف صفائی اور رکھ رکھاؤ کا خرچ، بینک کے قرض پر لگنے والے سود وغیرہ کی ادائیگی ہے۔ اوپر سے حکومت نے لاک ڈاؤن کو بڑھا دیا ہے۔ یہ نہیں پتہ کہ آگے یہ سب کتنے دن تک چلے گا؟

یہ سبھی سوال لگاتار مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم صنعتوں سے جڑے لوگوں کو پریشان کر رہے ہیں، کیونکہ آمدنی کہیں سے نہیں ہو رہی ہے اور روز مرہ کا خرچ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ ابھی تک ان سب سوالوں کو لے کر حکومت کی طرف سے کوئی گائیڈ لائن نہیں آئی ہے۔ ایسے میں لوگوں کا تناؤ کافی بڑھتا جا رہا ہے۔ اسی کو دیکھتے ہوئے پی ایم مودی نے کووڈ-19 کے انفیکشن سے نمٹنے کے ساتھ ہی ملک میں تجارت اور کاروبار کو پٹری پر لانے کے چیلنج کو دیکھتے ہوئے راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں تشکیل وزراء کے ایک گروپ کو غور کرنے کی ذمہ داری دی تھی، جو آج اپنی رپورٹ پیش کر سکتا ہے۔