این ڈی اے میں شامل مانجھی نے دلتوں کے ساتھ ہو رہے سلوک پر بی جے پی کو بنایا نشانہ

بھگوان رام سے متعلق متنازعہ بیان کو لے کر تنقید کا سامنا کر رہے بہار کے سابق وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انھیں (بی جے پی) بھی مندروں میں دلتوں کے داخلہ پر بولنا چاہیے۔

جیتن رام مانجھی، تصویر آئی اے این ایس
جیتن رام مانجھی، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

بھگوان رام کے وجود پر انگلی اٹھانے کے بعد بہار کے سابق وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی کو بی جے پی لیڈروں کی لگاتار تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جمعرات کو انھوں نے بی جے پی لیڈروں پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انھیں (بی جے پی کو) بھی مندروں میں دلتوں کے داخلے کے بارے میں بولنا چاہیے۔ مانجھی کرناٹک کے اس واقعہ کا تذکرہ کر رہے تھے جہاں مندر انتظامیہ نے ایک دلت والد پر 23 ہزار روپے کا جرمانہ لگایا، جو مندر کے دروازے کے باہر پوجا کر رہا تھا لیکن اس کا دو سال کا بیٹا 4 ستمبر کو اس میں داخل کر گیا۔

مانجھی نے کہا کہ ’’مذہبی مافیا ایسے واقعات کے بارے میں کچھ نہیں کہیں گے۔ وہ اس کے بارے میں خاموش ہو جاتے ہیں۔ کوئی بھی دلت طبقہ کے مندروں میں داخلے پر پابندی لگانے پر نہیں بولے گا۔ وہ دلت لوگوں کو مندروں میں داخل کرنے یا مذہبی کتابیں پڑھنے کو ٹھیک نہیں سمجھتے۔‘‘ مانجھی نے اس تعلق سے کیے گئے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’میں جو کچھ بھی کہہ رہا ہوں... صدیوں کے درد کا نتیجہ ہے۔ ہم نے اب تک اپنا غصہ ظاہر نہیں کیا۔‘‘


واضح رہے کہ مانجھی نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ انھیں بہار کے اسکولی نصاب میں رامائن کو شامل کرنے کو لے کر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن رامائن کی کہانی سچائی پر مبنی نہیں ہے۔ مانجھی نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ ’’رامائن میں کئی اچھی چیزیں ہیں جن کا استعمال ہمارے بچوں اور خواتین کو تعلیم یافتہ کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے بڑوں اور خواتین کی عزت کرنا اس کتاب کی خصوصیات ہیں۔ مجھے رامائن کو نصاب میں شامل کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن میں نجی طور سے مانتا ہوں کہ یہ ایک خیالی کتاب ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ رام ایک عظیم شخص تھے اور وہ زندہ تھے۔‘‘

مانجھی کے اس بیان ے بعد بی جے پی رکن اسمبلی ہری بھوشن ٹھاکر نے کہا تھا کہ ’’مانجھی نے رام کے وجود پر سوالیہ نشان لگایا ہے۔ میں مانجھی سے سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان کے والدین نے ان کا نام جیتن رام مانجھی کیوں رکھا۔ وہ مریادا پرشوتم بھگوان شری رام کے نام پر گھٹیا سیاست کر رہے ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔