منیش تیواری نے کسانوں کے مسئلہ پر لوک سبھا میں دیا تحریک التواء کا نوٹس

منیش تیواری نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنی جانیں گنوانے والے کسانوں کا ریکارڈ بنائے اور ان کے لواحقین کو معاوضہ دے۔

منیش تیواری، تصویر آئی اے این ایس
منیش تیواری، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے لوک سبھا میں تحریک التواء کا نوٹس دیا ہے جس میں کسانوں کے لئے معاوضہ کا مطالبہ کیا گیا ہے، جنہوں نے ایک سال کے احتجاج میں اپنی جان گنوائی ہے۔ اپنے نوٹس میں منیش تیواری نے کہا کہ میں فوری اہمیت والے خاص معاملے پر بحث کے مقصد سے ایوان کی کارروائی ملتوی کرنے کی تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ حکومت نے حال ہی میں زراعت کے تین قوانین کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس پر کسان گزشتہ ایک سال سے احتجاج کر رہے ہیں۔

منیش تیواری نے کہا کہ تحریک کے دوران، بہت سے کسانوں نے سخت موسم، حکومت کی طرف سے طاقت کے مبینہ استعمال اور کسانوں پر ہوئے پرتشدد حملوں کی وجہ سے انہوں نے اپنی جانیں گنوائیں، خاص طور پر لکھیم پور کھیری کا واقعہ جہاں کسانوں کو مبینہ طور پر تیز رفتار گاڑیوں کے ذریعہ کچل دیا گیا۔ بہت سے کسانوں نے اپنی روزی روٹی کھو دی کیونکہ وہ تینوں زرعی قانون کی واپسی کے لئے احتجاج کرتے ہوئے سرحدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ بہت سے معاملات میں جن کسانوں نے اپنی جانیں گنوائیں وہ اپنے خاندان کے لیے واحد کمانے والے تھے۔


انہوں نے نوٹس میں مزید کہا کہ حکومت نے پارلیمنٹ میں اپنے جواب میں کہا ہے کہ اس نے ان کسانوں پر نظر نہیں رکھی جنہوں نے احتجاج میں اپنی جانیں گنوائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنی جانیں گنوانے والے کسانوں کا ریکارڈ بنائے اور ان کے لواحقین کو معاوضہ دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں حکومت کی طرف سے کسانوں کی زندگیوں کو نظر انداز کرنے کے اس سنگین مسئلے کو اٹھانا چاہتا ہوں۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مانیکم ٹیگور نے بھی ایسا ہی لوک سبھا میں تحریک التوا کا نوٹس دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔