منی پور انتخاب: آخری مرحلہ میں 77 فیصد ووٹنگ، مختلف حادثات میں 2 افراد کی موت

منی پور میں ہفتہ کے روز دوسرے اور آخری مرحلے کے لیے 60 میں سے 22 انتخابی حلقوں میں 838730 ووٹروں میں سے 77 فیصد نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

منی پور اسمبلی انتخاب
منی پور اسمبلی انتخاب
user

قومی آوازبیورو

منی پور میں ہفتہ کے روز دوسرے اور آخری مرحلے کے لیے 60 میں سے 22 انتخابی حلقوں میں 838730 ووٹروں میں سے 77 فیصد نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ اس دوران دو لوگوں کی موت کی بھی اطلاع ہے، جبکہ کئی دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ جانکاری افسران نے دی ہے۔ 2017 کے اسمبلی انتخاب میں ووٹنگ 86.36 فیصد تھی، جب کہ 2019 کے لوک سبھا انتخاب میں یہ 82.78 فیصد رہی تھی۔

پولس کا کہنا ہے کہ سیناپتی ضلع کے کرونگ میں پولس کی گولی باری میں ایک شخص کی موت ہو گئی جب کہ ایک دیگر زخمی ہو گیا۔ علاوہ ازیں تھوبل ضلع میں بی جے پی کے کارکن کی موت ہو گئی ہے۔ ایک افسر نے کہا کہ کچھ لوگوں کے ذریعہ پولنگ مرکز سے ای وی ایم چھیننے کی کوشش کے دوران پولنگ اہلکاروں کی پٹائی کی گئی جس کے بعد پولس کو کرونگ میں گولیاں چلانی پڑیں۔


ایک دیگر واقعہ میں تھوبل ضلع میں جمعہ کی دیر شب بی جے پی کے کچھ کارکنان ایک حزب مخالف پارٹی کارکنان کی رہائش پر گئے۔ ایک تنازعہ کے بعد مخالف پارٹی کے کارکنان نے مبینہ طور پر بی جے پی کارکنان پر گولیاں چلائیں، جن میں سے کچھ کو اسپتال لے جایا گیا جہاں ہفتہ کو ایک شخص نے دم توڑ دیا۔

افسران نے بتایا کہ ماؤ، موریہہ اور دیگر مقامات پر مختلف سیاسی پارٹیوں کے کارکنان آپس میں نبرد آزما ہو گئے جس سے وہاں ووٹنگ کچھ دیر کے لیے رک گیا۔ منی پور کے چیف الیکٹورل افسر (سی ای او) راجیش اگروال نے کہا کہ پہاڑی ضلعوں میں شورش پسندوں کے ذریعہ ای وی ایم کو نقصان پہنچانے کے 12 واقعات ہوئے ہیں اور ہر معاملے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔


سیاسی پارٹیوں نے ایک دوسرے پر کئی مقامات پر آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخاب میں خلل ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس سے قبل ہفتہ کو چھ انتخابی ضلعوں میں صبح 7 بجے ووٹنگ شروع ہونے سے پہلے بڑی تعداد میں مرد، خاتون اور پہلی بار ووٹ کرنے والے ووٹروں کی قطاریں پولنگ مراکز کے سامنے نظر آئیں۔

افسران کے مطابق چھ ضلعوں تھوبل، جریبام، چندیل، اکھرول، سیناپتی اور تامینگ لونگ میں دوسرے مرحلہ کی پولنگ کے لیے مرکزی نیم فوجی دستہ کے 20 ہزار سے زائد جوانوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ تھوبل ضلع وادی علاقہ میں پڑتا ہے، دیگر پانچ ضلعے آسام اور ناگالینڈ کی سرحد کے ساتھ ساتھ میانمار کے پہاڑی علاقوں میں ہیں۔


اگروال نے کہا کہ مجموعی طور پر 838730 ووٹرس، جن میں 428679 خواتین اور 31 ٹرانسجنڈر شامل ہیں، دوسرے مرحلہ میں دو خواتین سمیت 92 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے لیے اہل تھے۔ تین بار کے وزیر اعلیٰ اور سینئر کانگریس لیڈر اوکرام ایبوبی سنگھ کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے کئی وزراء اور موجودہ اراکین اسمبلی کی قسمت ہفتہ کے روز ای وی ایم میں بند کر دی گئی ہے۔ سنگھ تھوبل اسمبلی سیٹ سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔

اس درمیان دو اضلاع امپھال مشرق اور چراچاندپور کے 12 بوتھوں پر بھی ہفتہ کو دوبارہ ووٹنگ ہوئی۔ 28 فروری کو پہلے مرحلہ کی ووٹنگ کے دوران اور بعد میں بدمعاشوں نے ای وی ایم کو نقصان پہنچایا تھا، جس کے بعد دوبارہ ووٹنگ کرائی گئی۔ پہلے مرحلہ کی ووٹنگ 28 فروری کو 38 سیٹوں پر ہوئی تھی، جب 1209439 ووٹروں میں سے 88.63 فیصد نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ ووٹوں کی گنتی 10 مارچ کو ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔