قومی

مینکا گاندھی کا فارمولہ، ’جہاں سے ووٹ زیادہ وہاں پر کام ہوگا اچھا‘

مرکزی وزیر مینکا گاندھی نے ایک اور متنازعہ بیان دیا ہے اور کہا ہے کہ جس علاقہ سے ووٹ زیادہ ملیں گے وہاں ہوگا سب سے اچھا کام

سوشل میڈیا 

قومی آوازبیورو

سیاست میں ابھی تک ایک بات پر تمام سیاسی پارٹیاں اتفاق کرتی تھیں اور یہ جمہویرت کی بنیاد بھی ہے کہ انتخابات میں جیتنے کے بعد تمام ووٹر جیتنے والے امیدوار کے لئے برابر ہوتے ہیں اور وہ بغیر کسی تفریق کے علاقہ میں کام کرتا ہے لیکن حال ہی میں بی جے پی اتر پردیش کے سلطانپور پارلیمانی حلقہ سے بی جے پی کی امیدوار اور مرکزی وزیر مینکا گاندھی نے ایک اور متانزعہ بیان دیا ہے جو جمہوریت کی اس بنیاد کا پوری طرح منافی ہے ۔ مینکا گاندھی نے سلطانپور کے ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سیدھے سیدھے کہا ہے ’جس علاقہ سے سب سے زیادہ ووٹ ملیں گے سب سے پہلے اسی کا کام ہوگا‘۔

واضح رہے مینکا گاندھی نے گزشتہ ہفتہ کہا تھا کہ’ ’ووٹ نہیں دینے کے بعد جب مسلمان کام کے لئے آتے ہیں تو میں سوچتی ہوں رہنے ہی دو ‘‘۔ یہ بیان جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کیونکہ مسلمان بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے تو ان کا کام کرتے وقت سوچنا پڑتا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے مینکا کے اس بیان کے خلاف ان کو ایک نوٹس بھی بھیجا ہے ۔مینکا اس مرتبہ اپنے بیٹے کی سیٹ سے چناؤ لڑ رہی ہیں ۔
مینکا گاندھی نے ایک چھوٹے سے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ’’میں جیت رہی ہوں۔ لوگوں کے پیار اور مدد سے میں جیت رہی ہوں لیکن اگر میری جیت مسلمانوں کے بغیر ہوگی تو بہت اچھا نہیں لگے گا ۔ کیونکہ اتنا میں بتا دیتی ہوں کہ پھر دل کھٹا ہو جاتا ہے ۔ پھر جب مسلمان آتا ہے کام کے لئے ، پھر میں سوچتی ہوں کہ رہنے ہی دو ۔۔۔ کیا فرق پڑتا ہے ۔ آخر نوکری میں سودے بازی بھی تو ہوتی ہے ۔ یہ نہیں کہ ہم مہاتما گاندھی کی چھٹی اولاد ہیں کہ ہم آئیں گے اور صرف دیتے ہی جائیں گے اور الیکشن میں مار کھاتے ہی جائیں گے ۔ یہ جیت آپ کے بغیر بھی ہوگی اور آپ کے ساتھ بھی ہوگی‘‘۔ مینکا گاندھی نے کہا کہ وہ کھلے ہاتھ اور کھلے دل کے ساتھ آئی ہیں ’’میں الیکشن جیت چکی ہوں اور اب آپ کو میری ضرورت پڑے گی ‘۔

مینکا گاندھی کے یہ جملے دراصل بی جے پی کی سوچ اور نظریہ کی عکاسی کرتے ہیں ۔ بی جے پی دراصل صرف ایک ہی طبقہ کی بات کرتی ہے اور جب اس سوچ کے رد عمل میں دوسرا طبقہ اس سیاسی جماعت کو ووٹ کرتا ہے جو سب کے کام کی بات کرتی ہے تو بی جے پی کی اصلی تصویر مینکا گاندھی کے بیانوں کی شکل میں سامنے آتی ہے کہ کام اسی کا جو اسے ووٹ دے اور کام اسی کا اچھا جو انہیں زیادہ ووٹ دے۔