مسلم سبزی فروش کا نام پوچھ کر پٹائی کرنے والا پروین ببر گرفتار، ویڈیو ہوا تھا وائرل

دہلی پولس نے مسلم سبزی فروش کی پٹائی کرنے والے پروین ببر کو گرفتار کرنے کے بعد کہا کہ اس طرح کی کسی بھی حرکت کو کسی بھی حال میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کورونا وائرس کے بڑھتے قہر کو دیکھتے ہوئے پورے ہندوستان میں لاک ڈاؤن جاری ہے اور اس درمیان دہلی میں مسلم سبزی والے کا نام پوچھ کر پٹائی کرنے کا ایک شرمناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو خوب وائرل ہو رہی ہے جس میں پہلے تو ایک سبزی بیچنے والے سے اس کا شناختی کارڈ مانگا جاتا ہے۔ جب سبزی فروش شناختی کارڈ نہ ہونے کی بات کہتا ہے تو اس سے نام پوچھا جاتا ہے۔ اور جیسے ہی وہ اپنا نام محمد سلیم بتاتا ہے، انتہائی گندی گندی گالیاں اس کو دی جاتی ہیں اور ڈنڈے سے بے رحمی کے ساتھ پیٹ کر اسے وہاں سے بھگا دیا جاتا ہے۔ وائرل ویڈیو میں وہاں موجود دو-تین لوگ کھڑے ہو کر یہ واقعہ دیکھتے رہتے ہیں لیکن کوئی سبزی فروش کو بچانے کے لیے آگے نہیں آتا ہے۔ لیکن پٹائی کرنے والا شخص اب گرفتار کر لیا گیا ہے۔


دہلی پولس کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں جو شخص سبزی فروش کو پیٹتا ہوا نظر آ رہا ہے اس کا نام پروین ببر ہے۔ پروین بدر پور ایکسٹینشن کا باشندہ ہے اور ٹور اینڈ ٹریولس کا کاروبار کرتا ہے۔ سائبر کرائم برانچ سیل نے پروین کو گرفتار کر اس کے خلاف بدر پور تھانہ میں مقدمہ درج کرایا ہے۔ اس گرفتاری کے تعلق سے ساؤتھ-ایسٹ دہلی کے ڈی سی پی آر پی مینا نے بتایا کہ "پروین ببر کی کارستانی کا انھیں ٹوئٹر سے پتہ چلا تھا۔ وہ سبزی فروش کا نام اور پتہ پوچھنے کے بعد اسے ڈنڈے سے پیٹتا ہوا نظر آیا۔ ویڈیو میں موقع پر ایک بائیک کھڑی نظر آئی، اس کے نمبر کی بنیاد پر پتہ چلا کہ بائیک کا مالک سدھانشو ہے۔ اور پھر اسی کے ذریعہ معاملے کی تہہ تک پہنچا گیا۔"

پولس کے ذریعہ پوچھ تاچھ کرنے پر سدھانشو نے بتایا کہ تاج پور روڈ پر پروین ببر سبزی والوں کو بے وجہ پیٹ رہا تھا۔ سدھانشو نے پروین کے گھر کے بارے میں بھی جانکاری پولس کو دی۔ اس کے بعد پولس نے بدرپور ایکسٹینشن واقع تلک راج کالونی پہنچ کر پروین کے گھر سے اسے گرفتار کر لیا۔


یہاں قابل ذکر ہے کہ خالد نامی ایک ٹوئٹر ہینڈل سے 11 اپریل کو ویڈیو شیئر کیا گیا تھا جس میں مسلم سبزی فروش محمد سلیم کا نام پوچھ کر اس کی ڈنڈوں سے پٹائی کی جاتی ہے۔ اس ویڈیو کو عآپ رکن اسمبلی ایڈووکیٹ سومناتھ بھارتی نے اسی دن ری ٹوئٹ کیا تھا اور دہلی پولس کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ "اگر آپ کی پولس پی ایم کی بھتیجی کا چوری کیا گیا پرس ایک سے دو دن میں واپس لا سکتی ہے تو مجھے پوری امید ہے کہ اس شرمناک واقعہ کا بھی آپ پتہ لگائیں گے۔ برائے کرم اس (سبزی فروش) کے ساتھ انصاف کیجیے اور یہ یقینی بنائیے کہ دہلی کو مذہبی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کو مضبوط ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔"


11 اپریل کو ہی محمد زبیر نامی ایک ٹوئٹر ہینڈل سے ویڈیو میں موجود گاڑی کا نمبر اور اس کے مالک کی تفصیل پیش کی گئی جسے کیپلر نامی ٹوئٹر ہینڈل سے ری ٹوئٹ کیا گیا اور سومناتھ بھارتی کے ساتھ ساتھ دہلی پولس کمشنر کے ٹوئٹر ہینڈل کو ٹیگ بھی کیا گیا۔ 13 اپریل کو اس پورے معاملے پر ساؤتھ-ایسٹ دہلی کے ڈی سی پی نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے یہ جانکاری دی کہ واقعہ کے تعلق سے کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور ملزم کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ٹوئٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طرح کی کسی بھی حرکت کو کسی بھی حال میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔


بہر حال، پروین ببر نے پولس کے پاس اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس دن وہاں 10 سبزی والے کھڑے تھے اور اس نے ان سے ہٹنے کے لیے کہا، لیکن وہ نہیں ہٹے۔ اس کے بعد غصے میں انھوں نے ان کی پٹائی کر دی۔ اس درمیان کچھ ہندی نیوز پورٹل پر شائع خبروں کے مطابق پولس نے متاثرہ سبزی فروش کو تلاش کر کے اس کا بیان بھی درج کر لیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔