نندی گرام سے ہار کے بعد اپنی پرانی سیٹ کا رُخ کریں گی ممتا بنرجی، شوبھن دیب بھوانی پور سیٹ سے مستعفی

بنگال انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرنے کے باوجود ممتا بنرجی کو نندی گرام میں ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا، اب وہ بھوانی پور سیٹ سے انتخاب لڑنے کے لئے تیار ہیں

ممتا بنرجی / یو این آئی
ممتا بنرجی / یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

کولکاتا: بنگال انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرنے کے باوجود ممتا بنرجی کو نندی گرام میں ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اپنے سابق معاون سوبھندو ادھیکاری کو ان کے قلع میں چیلنج کرنے کے لئے ممتا نے اپنی روایتی سیٹ بھوانی پور سے انتخاب نہ لڑ کر نندی گرام سے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب وہ پھر سے بھوانی پور سے انتخاب لڑنے جا رہی ہیں۔

بنگال اسمبلی انتخابات میں بھوانی پور سے جیت حاصل کرنے والے رکن اسمبلی شوبھن دیب چٹوپادھیائے نے آج دوپہر بنگال اسمبلی سے اپنا استعفی پیش کر دیا تاکہ ممتا بنرجی بھوانی پور سیٹ سے انتخاب لڑ سکیں۔

اسمبلی اسپکر بِمن بنرجی کو اپنا استعفی سونپنے کے بعد شوبھن نے کہا، ’’ممتا بنرجی آنے والے چھ مہینوں میں بھوانی پور سے انتخاب لڑیں گی۔‘‘ ادھر، شوبھن دیب چٹوپادھیائے چھ مہینے تک وزیر زراعت کے عہدے پر فائز رہیں گے اور اس دوران وہ اسمبلی میں لوٹنے کے لئے کسی دوسری سیٹ سے انتخاب لڑیں گے۔


بنگال انتخابات میں لگاتار تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کرنے والی ممتا بنرجی نندی گرام میں بی جے پی لیڈر اور اپنے سابق معاون سوبھندو ادھیکاری سے معمولی فرق سے ہار گئی تھیں۔ وزیر اعلیٰ کے عہدے پر برقرار رہنے کے لئے انہیں چھ مہینے کے اندر انتخاب جیتنا ہوگا اور اسمبلی کا رکن بننا ہوگا۔ آئین کی دفعہ 164 کے مطابق کوئی بھی وزیر اگر چھ مہینے کے اندر رکن اسمبلی نہیں بن پاتا تو اسے استعفی پیش کرنا پڑتا ہے۔

اسی سالہ شوبھن دیب چٹوپادھیائے 2016 میں راس بہار سیٹ سے رکن اسمبلی تھے اور گزشتہ مدت کار میں بجلی کے وزیر تھے۔ اس مرتبہ انہیں بی جے پی کے اداکار-امیدوار رودرنیل گھوش کے خلاف بھوانی پور سے امیدوار بنایا گیا تھا۔ انہوں نے گھوش کو ہرایا اور 9 مئی کو وزیر زراعت کے طور پر حلف اٹھایا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔