ممتا بنرجی نے بنگال کے گورنر پر لگایا بدعنوانی میں ملوث ہونے کا الزام

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ ہم گورنر کے خلاف مرکزی حکومت کے نام تین خطوط لکھ چکے ہیں مگرایک خط کا بھی جواب وزیرا عظم کی طرف سے نہیں آیا ہے۔

وزیر اعلی ممتا بنرجی کی فائل تصویر، آئی اے این ایس
وزیر اعلی ممتا بنرجی کی فائل تصویر، آئی اے این ایس
user

یو این آئی

کولکاتا: مغربی بنگال میں گورنر اور حکومت کے درمیان جاری رسہ کشی کے درمیان ممتا بنرجی نے گورنر کی تنقیدوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ بدعنوان ہیں اور حوالہ کیس میں ان کا نام آچکا ہے، اس کے باوجود مرکز ی حکومت نے انہیں گورنر بناکر یہاں بھیجا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں نے کئی گورنر دیکھے ہیں لیکن ان کی طرح کا گورنر بنگال میں نہیں آیا ہے۔

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ ہم گورنر کے خلاف مرکزی حکومت کے نام تین خطوط لکھ چکے ہیں مگرایک خط کا بھی جواب وزیرا عظم کی طرف سے نہیں آیا ہے ۔ممتا نے گورنر کے شمالی بنگال کے اچانک دورہ پر بھی سوال کھڑا کیا اور کہا کہ ’’ایک ایسے وقت میں جب شمالی بنگال میں بی جے پی کے لوگ علاحدہ ریاست کا مطالبہ کررہے ہیں، ایسے میں گورنر کا دورہ کیوں ہوا۔‘‘ انھوں نے گورنر کے خلاف مزید سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ گورنر نے شمالی بنگال میں علاحدگی پسند قوتوں کو مشتعل کرنے کے لئے یہ دورہ کیا ہے۔


خیال رہے کہ گورنر نے شمالی بنگال کا دورہ کرنے کے بعد الزام عاید کیا کہ جی ٹی اے میں کروڑوں روپے کی بدعنوانی ہوئی ہے۔ گورکھا علاقہ انتظامیہ در حقیقت بدعنوانی کا گڑھ بن ہے۔ ایک طویل عرصے سے جی ٹی اے کا آڈٹ نہیں ہوا ہے۔ میں سی اے جی سے آڈٹ کرائوں گا۔ جی ٹی اے میں شفافیت کو بحال کرنا ہوگا۔ اور اسی مقصد کے ساتھ جی ٹی اے تشکیل دیا گیا۔ کوئی اہداف پورے نہیں ہوئے۔ پہاڑی لوگوں کی کوئی ترقی نہیں ہوئی تھی۔ ترقی کی بجائے، جی ٹی اے میں برسوں سے بدعنوانی جاری ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ اس بات کی جانچ ہونی چاہیے کہ گورنر ہائوس میں کون کون لوگ جاتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔