مالویہ نگر آتشزدگی معاملہ: دہلی پولیس نے ہوٹل کے باورچی کیشو نیگی کو کیا گرفتار

دہلی فائر سروس کے مطابق آگ کی لپٹوں نے عمارت کے بیسمنٹ، گراؤنڈ فلور اور اوپر کی 5 منزلوں کو اپنی زد میں لے لیا تھا، جس کی وجہ سے گرمی اور دھوئیں کے باعث کافی نقصان ہوا۔

<div class="paragraphs"><p>مالویہ نگر میں واقع ریسٹورنٹ میں آتشزدگی، تصویر ’ویپن‘</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

دہلی پولیس نے مالویہ نگر آتشزدگی معاملہ میں ہوٹل کے باورچی کیشو نیگی کو گرفتار کر لیا ہے، جو دلشاد گارڈن کا رہنے والا ہے۔ دہلی پولیس کی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ باورچی کی لاپرواہی کے سبب آگ لگی تھی۔ تحقیقات کے دوران افسران کو مبینہ طور پر حفاظتی قوانین کی کئی خلاف ورزیاں اور عمارت کے فائر سیفٹی انفراسٹرکچر میں بھی سنگین خامیاں ملی تھیں۔

اس معاملے میں پولیس ہوٹل کے مالک لوکیش بجاج کے علاوہ دیگر ملزم سویٹی سرکار اور پشپو سرکار کو پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے۔ مالک بجاج کو بعد میں 4 روز کی پولیس حراست میں بھیج دیا گیا۔ واضح رہے کہ آتشزدگی کے اس واقعہ میں کئی غیر ملکی شہریوں سمیت کم از کم 21 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ ان میں سے 9 ہندوستانی اور 12 بنگلہ دیش، لائبیریا، نائجیریا اور موزمبیق کے رہنے والے غیر ملکی شہری تھے۔


عمارت سے 47 لوگوں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا تھا۔ ساکیت واقع میکس ہاسپٹل کے بیان کے مطابق جنوبی دہلی کے اس اسپتال میں فی الحال 15 مریض بھرتی ہیں۔ ان میں سے 13 غیر ملکی ہیں۔ وینٹیلیٹر پر موجود تمام مزید مستحکم ہیں اور ان میں بہتری آ رہی ہے۔ دہلی فائر سروس کے مطابق آگ کی لپٹوں نے عمارت کے بیسمنٹ، گراؤنڈ فلور اور اوپر کی 5 منزلوں کو اپنی زد میں لے لیا تھا، جس کی وجہ سے گرمی اور دھوئیں کے باعث کافی نقصان ہوا ہے۔

’آئی اے این ایس‘ نے دہلی پولیس سے منسلک ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ریسٹورنٹ میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی تھی۔ تحقیقاتی ٹیم کو واقعہ کے دوران کسی بھی ایل پی جی سلنڈر میں دھماکہ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ دہلی پولیس کی ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر یہ بھی بتایا گیا کہ آگ اتنی شدت سے اس وقت پھیلتی ہے جب عمارت کی انٹرنل وائرنگ میں شارٹ سرکٹ ہوا ہو۔ ہوٹل کے بیسمنٹ اور بالائی منزل پر 2 کچن بنے ہوئے تھے۔ دونوں کچن کے اندر ایل پی جی سلنڈر رکھے ہوئے تھے، لیکن ان سلنڈروں کے اندر کوئی دھماکہ نہیں ہوا۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔