رافیل: بی جے پی رکن اسمبلی مستعفی، کہا ’مرکز ہی نہیں مہاراشٹر حکومت بھی بدعنوان‘

بی جے پی رکن اسمبلی آشیش دیشمکھ نے رافیل معاہدہ میں بدعنوانی کا ایشو اٹھاتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بدعنوانی کا فائدہ صرف مرکزی حکومت کو ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر حکومت کو بھی ملا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

وشو دیپک

متنازعہ رافیل معاہدہ میں مبینہ بدعنوانی سے بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی بھی پریشان ہیں۔ اس بدعنوانی کے سبب مہاراشٹر سے بی جے پی رکن اسمبلی آشیش دیشمکھ نے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا ہے کہ مودی حکومت نےر افیل معاہدہ میں قومی سیکورٹی کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔

آشیش دیشمکھ نے پارٹی صدر امت شاہ کو ایک خط لکھ کر اس معاملے کو سامنے رکھا ہے۔ مہاراشٹر کے ودربھ میں کٹول اسمبلی حلقہ سے رکن اسمبلی آشیش دیشمکھ نے رافیل معاہدہ میں مودی حکومت پر مجرمانہ سازش کا الزام عائد کیا ہے۔ خط میں آشیش نے یہ بھی بتایا ہے کہ کس طرح بی جے پی حکومت عام لوگوں اور کسانوں سے جڑے ایشوز کو نظر انداز کر رہی ہے۔

’قومی آواز‘ سے بات چیت میں دیشمکھ نے کہا کہ ’’میں طویل مدت سے کسانوں، بے روزگاری اور نوٹ بندی سے پیدا حالات پر آواز اٹھا رہا ہوں۔ لیکن بی جے پی میں کوئی سننے کو تیار نہیں ہے۔ بی جے پی صدر امت شاہ نے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ بی جے پی کی مرکزی قیادت نے پالیسی کے تحت خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور ریاست کے لیڈران میری آواز دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

دیشمکھ نے سوال پوچھا ہے کہ ’’وزیر اعظم سے لے کر وزیر دفاع تک بی جے پی میں ہر کوئی جانتا ہے کہ انل امبانی کی کمپنی ریلائنس ڈیفنس کو ڈیفنس کنسٹرکشن کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود کیوں یہ معاہدہ کیا گیا؟‘‘ انھوں نے کہا کہ رافیل سے ہوئی بدعنوانی سے مرکزی حکومت ہی نہیں، مہاراشٹر کی بی جے پی حکومت کو بھی فائدہ پہنچا ہے۔ دیشمکھ نے مزید کہا کہ ’’اگر بدعنوانی کا فائدہ نہیں ملا ہوتا تو دیویندر فڑنویس نے کیوں بغیر جانچ کیے انل امبانی کو ’پرائم لینڈ‘ دے دی۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ میہان ایس ای زیڈ میں دسالٹ اور ریلائنس کی زمین پر صرف ایک بورڈ لگا ہے اور وہاں کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے۔ دیشمکھ نے سوال کیا کہ ’’اتنے دن بعد بھی انل امبانی نے ڈیفنس کنسٹرکشن میں اب تک کیا کچھ کیا، کسی کو نہیں معلوم ہے۔ اس معاملے کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔‘‘

رافیل: بی جے پی رکن اسمبلی مستعفی، کہا ’مرکز ہی نہیں مہاراشٹر حکومت بھی بدعنوان‘

دیشمکھ نے گزشتہ ہفتہ مہاراشٹر اسمبلی کے اسپیکر کو اپنا استعفیٰ سونپ دیا تھا۔ 2 اکتوبر کو جب کانگریس صدر راہل گاندھی سیواگرام گئے تھے تو دیشمکھ نے ان سے ملاقات کی تھی۔

بی جے پی صدر امت شاہ کو لکھے خط میں دیشمکھ نے کہا ہے کہ ’میک ان انڈیا‘، ’میگنیٹک مہاراشٹر‘، ’اسکل انڈیا‘ جیسی مودی حکومت کے سبھی منصوبے بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ایک طرف کسان خودکشی کر رہے ہیں تو دوسری طرف نوجوان بے روزگاری سے پریشان ہیں۔ اپنے چار صفحات کے خط میں دیشمکھ نے ودربھ کی ترقی کا وعدہ پورا نہ کرنے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ودربھ علاقہ کے لوگوں نے بی جے پی کو کل 63 میں سے 44 سیٹیں دی تھیں، تاکہ اس حلقہ کی ترقی ہو، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی سارے وعدے بھول گئی۔‘‘

سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ بی جے پی میں رافیل معاملہ کو لے کر اب کھلی بغاوت کی شروعات ہو چکی ہے۔ آنے والے دنوں میں اور بھی کئی اراکین اسمبلی استعفیٰ دے سکتے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔