مہاراشٹر کے مستعفی آئی جی عبدالرحمٰن کی دوبارہ ملازمت میں شمولیت متوقع

اپنے استعفی نامہ میں عبدالرحمٰن نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ حکومت مذہب کے نام پر دو قوموں میں تفرقہ پیدا کر کے ایک مخصوص طبقہ کو ہندوستانی شہریت سے محروم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

ممبئی: مہاراشٹر میں انسپکٹر جنرل آف پولیس کے عہدے سے شہریت ترمیم قانون کو لے کر مستعفی ہوئے مسلم پولیس آئی پی ایس آفیسر عبدالرحمن کی دوبارہ ملازمت میں شمولیت متوقع ہے کیونکہ ریاستی حکومت نے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنا استعفی واپس لے لیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ انسپکٹر جنرل آف پولیس کے عہدے پر فائز ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے عبدالرحمٰن نے مرکزی حکومت کے شہری ترمیم قانون کو لے کر اپنا استعفی نامہ مہاراشٹر حکومت کو پیش کیا تھا لیکن ذرائع کے مطابق اب تک اسے مہاراشٹر حکومت نے منظور نہیں کیا ہے۔

اپنے استعفی نامہ میں عبدالرحمٰن نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ حکومت مذہب کے نام پر دو قوموں میں تفرقہ پیدا کر کے ایک مخصوص طبقہ کو ہندوستانی شہریت سے محروم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اس سے دلبرداشتہ ہو کر وہ مستعفی ہو رہے ہیں۔

مرکزی حکومت کے اس قانون کو مہاراشٹر میں نافذ نہ کیے جانے کا وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے گزشتہ دنوں اعلان کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ کل اقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے عبدالرحمٰن کو طلب کیا تھا اور ان سے استعفی نامہ واپس لینے کی درخواست کی تھی اور یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ ان کی خدمات ریاستی وقف بورڈ میں بحیثیت چیف ایکزیکیٹیو افسر لی جاسکتی ہیں۔

آئی پی ایس عبدالرحمن سے جب اس تعلق سے گفتگو کی گئی تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اقلیتی امور کے وزیر نے ان سے استعفی نامہ واپس لینے کو کہا ہے لیکن انہوں نے اس بات کا جواب دینے سے انکار کیا کہ آیا وہ استعفی نامہ واپس لیں گے یا نہیں۔