مہاراشٹر: ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے مراٹھی کا علم لازمی، حکومت نے ترمیم شدہ قواعد کئے جاری

مہاراشٹر حکومت نے الیکٹرانک میٹر والی ٹیکسیوں کے ڈرائیوروں اور پرمٹ ہولڈرز کے لیے مراٹھی کا عملی علم لازمی قرار دیتے ہوئے ترمیم شدہ موٹر وہیکل قواعد جاری کر دیے ہیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

ممبئی: مہاراشٹر حکومت نے الیکٹرانک میٹر والی ٹیکسیوں کے ڈرائیوروں اور پرمٹ ہولڈرز کے لیے مراٹھی زبان کا کام چلاؤ علم لازمی قرار دے دیا ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں مہاراشٹر موٹر وہیکل رولز، 1989 میں ترمیم کرتے ہوئے نئے قواعد جاری کیے ہیں۔ ترمیم شدہ قواعد کے مطابق اب ہر ٹیکسی ڈرائیور کے لیے مراٹھی زبان کا عملی علم رکھنا ضروری ہوگا۔ اس کے لیے حکومت نے قواعد میں متعلقہ دفعات میں تبدیلی کی ہے اور زبان کی اہلیت کو ڈرائیور کی اجازت اور ٹیکسی پرمٹ سے جوڑ دیا ہے۔

نئے ضابطے کے تحت اگر کسی ڈرائیور کو مراٹھی زبان کا کام چلاؤ علم نہیں ہے تو لائسنسنگ اتھارٹی اسے ایک ماہ کا نوٹس دے گی۔ اس مدت کے دوران ڈرائیور کو مقررہ شرط پوری کرنے کے لیے مراٹھی سیکھنا ہوگی۔

اگر ڈرائیور ایک ماہ کی مدت میں قواعد کی تعمیل نہیں کرتا تو لائسنسنگ اتھارٹی تحریری وجوہات درج کرتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔ پہلی کارروائی کے طور پر ڈرائیونگ لائسنس پر موجود ٹیکسی چلانے کی اجازت کو زیادہ سے زیادہ 3 ماہ کے لیے معطل کیا جا سکتا ہے۔


اگر اس کے بعد بھی ڈرائیور قواعد کی تعمیل نہیں کرتا تو مناسب سماعت کا موقع دینے کے بعد اس کی اجازت یا متعلقہ پرمٹ منسوخ کرنے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

حکومت نے ٹیکسی پرمٹ کی تجدید کے لیے بھی مراٹھی زبان کے عملی علم کی شرط عائد کی ہے۔ نئے ضابطے کے مطابق الیکٹرانک میٹر والی ٹیکسی کے پرمٹ کی تجدید اسی صورت میں کی جائے گی جب متعلقہ ٹرانسپورٹ اتھارٹی ڈرائیور یا پرمٹ ہولڈر کے مراٹھی زبان کے عملی علم سے مطمئن ہو۔

ترمیم کے تحت مہاراشٹر موٹر وہیکل رولز کی مختلف دفعات میں تبدیلی کی گئی ہے۔ ان میں ڈرائیوروں کی اہلیت، الیکٹرانک میٹر والی موٹر کیب کے لیے اضافی شرائط اور ٹیکسی پرمٹ کی تجدید سے متعلق دفعات شامل ہیں۔

ریاستی حکومت کے مطابق مراٹھی زبان کی شرط کا مقصد ٹیکسی ڈرائیوروں اور مسافروں کے درمیان رابطے کو آسان بنانا اور مسافروں کو بہتر خدمات فراہم کرنا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مقامی زبان کا عملی علم ہونے سے مسافروں اور ڈرائیوروں کے درمیان بات چیت میں پیدا ہونے والی دشواریوں کو کم کیا جا سکے گا۔