مراٹھی کا علم نہ رکھنے والے آٹو رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے لائسنس ہوں گے منسوخ، ریاستی حکومت کا اعلان

مہاراشٹر میں آٹو رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے مراٹھی کا عملی علم لازمی ہوگا۔ ایک ماہ کے نوٹس کے بعد بھی زبان نہ سیکھنے پر لائسنس 3 ماہ معطل اور مسلسل خلاف ورزی پر مستقل منسوخ کیا جا سکے گا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

ممبئی: مہاراشٹر حکومت نے آٹو رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے مراٹھی زبان کا عملی علم لازمی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ زبان سے ناواقف ڈرائیوروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور قواعد پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ان کے لائسنس منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔

مہاراشٹر کے وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے بدھ کو اعلان کیا کہ ممبئی سمیت پورے مہاراشٹر میں آٹو رکشہ اور ٹیکسی چلانے والے ڈرائیوروں کے لیے مراٹھی کا کام چلاؤ علم ضروری ہوگا۔ حکومت اس سلسلے میں بدھ کو ایک سرکاری حکم نامہ جاری کرنے والی ہے، جس کے تحت موٹر وہیکل ایکٹ، 1988 کے تحت مہاراشٹر موٹر وہیکل (ترمیمی) قواعد، 2026 نافذ ہوں گے۔

ترمیم شدہ قواعد کے مطابق، جن ڈرائیوروں میں مراٹھی بولنے کا عملی یا کام چلاؤ علم نہیں ہوگا، انہیں پہلے ایک ماہ کا نوٹس دیا جائے گا۔ اگر وہ اس مدت کے اندر زبان سیکھنے میں ناکام رہتے ہیں تو ان کے ڈرائیونگ لائسنس کے اجازت نامے کو زیادہ سے زیادہ تین ماہ کے لیے معطل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد بھی قواعد کی خلاف ورزی جاری رہنے پر اجازت نامہ مستقل طور پر منسوخ کیا جا سکے گا۔

وزیر پرتاپ سرنائک نے کہا کہ یہ کوئی نیا قانون نہیں ہے بلکہ 1989 سے موجود ایک ضابطے کو سختی سے نافذ کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈرائیوروں کو مراٹھی سیکھنے کے لیے 15 اگست تک کا وقت دیا تھا۔ کئی ڈرائیوروں نے اس دوران زبان سیکھی، تاہم کچھ لوگ اب بھی مراٹھی سیکھنے سے انکار کر رہے ہیں۔


سرنائک نے کہا کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو، اس لیے ڈرائیوروں کو زبان سیکھنے کے لیے مناسب وقت دیا گیا، لیکن جو لوگ جان بوجھ کر قواعد کی خلاف ورزی کریں گے، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

مہاراشٹر موٹر وہیکل قواعد، 1989 کے قاعدہ 4 کی ذیلی دفعہ (4) میں ترمیم کرکے مراٹھی زبان کے ’کام چلاؤ علم‘ کو ڈرائیور اتھارائزیشن کے لیے لازمی اہلیت میں شامل کیا گیا ہے۔ نئے ضابطے کے تحت ڈرائیوروں کو دیگر شرائط کے ساتھ مراٹھی زبان میں عملی مہارت بھی ثابت کرنا ہوگی۔

نئے شامل کیے گئے قاعدہ 22(3 اے) کے تحت الیکٹرانک میٹر والی ایپ پر مبنی موٹر کیب چلانے والے ڈرائیوروں کے لیے بھی مراٹھی کا کام چلاؤ علم لازمی ہوگا۔ لائسنسنگ حکام کو پہلی بار قواعد کی خلاف ورزی پر اجازت نامہ زیادہ سے زیادہ تین ماہ کے لیے معطل کرنے اور بار بار خلاف ورزی کی صورت میں اسے مستقل طور پر منسوخ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

اسی طرح قاعدہ 78 کی ذیلی دفعہ (2) میں نئی شق شامل کرکے پرمٹ ہولڈرز کے لیے بھی مراٹھی کا عملی علم ضروری کر دیا گیا ہے۔ ترمیم شدہ قاعدہ 85(1) کے تحت کیب اور ٹیکسی پرمٹ کی تجدید کے لیے مقامی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی تسلی کے مطابق مراٹھی زبان میں عملی مہارت کا ثبوت دینا بھی ضروری ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔