انٹیلی جنس رپورٹ کو ہلکے میں لینا مہنگا پڑا مہاراشٹر حکومت کو

ریاستی انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ نے ایم وی اے کو خاص طور پر وزیر اعلی اور وزارت داخلہ کو مطلع کیا تھا کہ شیوسینا کے 10 سے 12 ارکان اسمبلی حکومت کے خلاف بغاوت کر سکتے ہیں۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

مہاراشٹر میں 21 جون کو شروع ہونے والا سیاسی ہنگامہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ 2 مہینے پہلے ایس آئی ڈی یعنی ریاستی انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ نے مہاوکاس اگاڑھی اتحاد یعنی ایم وی اے کو خاص طور پر وزیر اعلی اور وزارت داخلہ کو مطلع کیا تھا کہ شیو سینا کے 10 سے 12 ارکان اسمبلی حکومت کے خلاف بغاوت کر سکتے ہیں۔ ایس آئی ڈی نے بتایا تھا کہ ممبئی کے مغربی مضافات، تھانے اور رائے گڑھ ضلع سمیت کئی دیگر اضلاع کے ایم ایل اے بی جے پی لیڈروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، حالانکہ اس میں ایکناتھ شندے کا براہ راست ذکر نہیں کیا گیا تھا۔

اس وقت خود وزیر اعلیٰ بشمول وزارت داخلہ نے اس معاملے کو بہت ہلکا لیا تھا اور ریاست میں جاری دیگر سرگرمیوں پر توجہ مرکوز تھی۔ایس آئی ڈی کے ایک افسر کی رپورٹ کو بھی اس لئے اہمیت نہیں دی گئی کیونکہ اگر 10 سے 12 ایم ایل اے چلے بھی جائیں تو اس کا حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ مہاراشٹر حکومت روی رانا ہنگامہ آرائی، راج ٹھاکرے ہندوتوا مسئلہ، موہت کمبوج جیسے لیڈروں میں زیادہ گھری رہی ۔


اس دوران ان 10 سے 12 ایم ایل اے کا معاملہ بڑھتا رہا اور مخالف گروپ بڑھتا رہا۔ غور طلب ہے کہ 20 جون کے بعد ایم ایل اے کےفون نہ ملنے پر تشویش ہوئی اور اس کے بعد ہی کمشنر کو وزیر اعلی کی سرکاری رہائش گاہ پر طلب کیا تھا ۔ شرد پوار نے بھی اس پر سوال کیا تھا ۔

اسی دوران گوہاٹی سے شندے گروپ کا ایک اور ویڈیو سامنے آیا ہے۔ اس ویڈیو میں ایکناتھ شندے باغی ایم ایل اے سے بات کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں مہاراشٹر کے باغی شیو سینا ایم ایل اے نے متفقہ طور پر ایکناتھ شندے کو اپنا لیڈر منتخب کیا ہے۔ ویڈیو میں شندے نے بی جے پی کی تعریف کی ہے۔


نئی ویڈیو میں ایکناتھ شندے نے بی جے پی کا نام نہیں لیا۔ حالانکہ انہوں نے قومی پارٹی کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں قومی پارٹی کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم اس ویڈیو کے بعد قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ جلد ہی ایکناتھ شندے بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اس ویڈیو پر شندے گروپ کے چیف وہپ بھرت گوگاوالے نے کہا کہ ملک کے لیے قربانی کی بات ہو رہی ہے۔ ہمیں ایکناتھ شندے کا فیصلہ قبول ہے۔ اس سے پہلے بھی شندے گروپ کا ایک ویڈیو سامنے آیا تھا۔ جس میں باغی ایم ایل اے نظر آرہے تھے۔ اس ویڈیو میں شندے نے دعویٰ کیا کہ انہیں 49 ایم ایل اے کی حمایت حاصل ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔