مہاراشٹر بحران: شیوسینا کے باغی ارکان اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر کے نام مکتوب، شرد پوار نے کہا- ’واپس آنا پڑے گا‘

سیاسی بحران کے درمیان شراد پوار نے کہا کہ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی حکومت کو درپیش بحران میں بی جے پی نے کردار ادا کیا ہے اور تمام باغی ارکان اسمبلی کو مہاراشٹر آکر اسمبلی کا سامنا کرنا پڑے گا

شرد پوار، تصویر آئی اے این ایس
شرد پوار، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

ممبئی: مہاراشٹر میں جاری سیاسی بحران کے درمیان باغی لیڈر ایکناتھ شندے مضبوط ہوتے جا رہے ہیں اور وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کمزور ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ سیاسی ہنگامہ آرائی کے درمیان آسام میں ڈیرے ڈالے 37 باغی شیوسینا ارکان اسمبلی نے مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نرہری جیروال کو ایک خط بھیجا، جس میں کہا گیا کہ ایکناتھ شندے ایوان میں ان کے لیڈر ہوں گے۔ تاہم، ایک روز قبل نرہری جیروال نے کہا تھا کہ انہوں نے باغی ایم ایل اے ایکناتھ شندے کی جگہ اجے چودھری کو ایوان میں سینا کی مقننہ پارٹی کے لیڈر کے طور پر مقرر کرنے کو منظوری دے دی ہے۔

خط میں یہ بھی بتایا گیا کہ شیوسینا کے ایم ایل اے سنیل پربھو کی جگہ بھرت گوگاوالے کو قانون ساز پارٹی کا چیف وہپ مقرر کیا گیا ہے۔

شندے نے پربھو کی طرف سے بلائی گئی میٹنگ میں شرکت نہ کرنے پر اپنے دھڑے کے ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی کی درخواست کرنے والوں پر یہ کہتے ہوئے جوابی حملہ کیا کہ وہپ صرف قانون سازی کے کام پر لاگو ہوتا ہے۔ شندے نے ٹوئٹ کیا، "آپ کس کو دھمکی دینے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ہم آپ کی چالوں کو جانتے ہیں اور قانون کو بھی سمجھتے ہیں۔ آئین کے 10ویں شیڈول کے مطابق وہپ قانون سازی کے کام کے لیے لاگو ہوتا ہے نہ کہ کسی نشست کے لیے۔‘‘


دریں اثنا، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے صدر شرد پوار نے جمعرات کو کہا کہ مہاراشٹر میں مہا وکاس اگھاڑی حکومت (ایم وی اے) کی قسمت کا فیصلہ اسمبلی میں کیا جائے گا اور شیوسینا-این سی پی-کانگریس اتحاد اعتماد کے ووٹ میں اپنی اکثریت ثابت کرے گا۔ سیاسی بحران کے درمیان، پوار نے یہ بھی کہا کہ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی حکومت کو درپیش بحران میں بی جے پی نے کردار ادا کیا ہے۔

سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ باغی ارکان اسمبلی کو ممبئی واپس آ کر اسمبلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ گجرات اور آسام کے بی جے پی لیڈران کی رہنمائی کے لیے یہاں نہیں آئیں گے۔ پوار نے باغی شیوسینا ارکان اسمبلی کے ان الزامات کی بھی تردید کی کہ انہیں اپنے حلقوں کے لیے فنڈز حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وزارت خزانہ این سی پی کے اجیت پوار کے زیر کنٹرول ہے اور وہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔