مہنت نریندر گری کی موت کی جانچ جاری، باگھمبری مٹھ کو لے کر کئی تنازعے

باگھمبری مٹھ کے پہلے مہنت کے بارے میں لوگوں کے پاس کوئی پختہ جانکاری میسر نہیں ہے۔ کچھ لوگ بابا بال کیسر گری مہاراج کے ذریعہ مٹھ کا قیام بتاتے ہیں۔

مہنت نریندر گری، فائل تصویر آئی اے این ایس
مہنت نریندر گری، فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

پریاگ راج: باگھمبری گدی کے مہنت نریندر گری کی مشتبہ حالت میں ہوئی موت کے سلسلے میں سی بی آئی جانچ کر رہی ہے حالانکہ کچھ قریبی جانکار کہتے ہیں کہ باگھمبری گدی مٹھ اکثر تنازعات میں گھرا رہا ہے۔ کبھی گدی پر دعویداری، عدالتی کارروائی، زمین جائیداد کی فروخت کا معاملہ تو کبھی پراسرار اموات کے سلسلے میں یہ مٹھ ہمیشہ موضوع بحث رہا ہے۔

باگھمبری مٹھ کے پہلے مہنت کے بارے میں لوگوں کے پاس کوئی پختہ جانکاری میسر نہیں ہے۔ کچھ لوگ بابا بال کیسر گری مہاراج کے ذریعہ مٹھ کا قیام بتاتے ہیں۔ باگھمبری مڈھ کے تحت زمین۔ جائیداد پر مالکانہ حق ایک عرصے تک ٹھیک ٹھیک چلتا رہا لیکن اس کے بعد تنازعات میں گھرا رہا۔ کبھی گدی پر دعویدار کے سلسلے میں کبھی زمین جائیدار کے سلسلے میں تو کبھی پر اسرار اموات کے بارے میں۔


تقریباً 300 سال پرانی اللہ پور واقع باگھمبری مٹھ دشنام سنیاسی روایت کے گری نامی سنیاسیوں کی گدی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بابا بال کیسر گری مہاراج کے بعد ان کے متعدد سنتوں نے اس گدی کو سنبھالا۔ سال 1978 میں مہنت وچارانند گری مہاراج اس گدی کے مہنت تھے۔ ان کی بھی موت مشتہ حالات میں ہریدوار سے لوٹتے وقت ٹرین میں زہر کے استعمال سے ہوئی تھی۔

ان سے قبل مہنت پروشوتمانند باگھمبری گدی پر براجمان ہوئے۔ مہنت وچارانند کی موت کے بعد شری مہنت بلدیو گری اس کے وارث بنے اور وچارانند کی موت کے بعد سے ہی تنازع شروع ہوگیا تھا۔ سال 2004 میں اکھاڑے کے سنتوں نے مہنت بلدیو گری پر گدی چھوڑنے کا دباؤ بنایا۔ بلدیو گری سنت کے دباؤ میں آکر مٹھ چھوڑ کر چل دئیے۔ اس کے بعد مہنت بھگوان گری نے اس گدی کا اقتدار سنبھالا۔ بھگوان گری کو گلے میں کینسر کا مرض لاحق تھا اور ان کی موت کے بعد مہنت نریندر گری نے سال 2004 میں اپنا دعوی پیش کیا اور اکھاڑے کے مہنت بن گئے۔


باگھمبری مڈھ پر دعوی کے وقت نریندر گری کے گرو ہرگوند پوری کے بھائی ملتانی مڑھی کے بالکشن پوری نے نریندر گری کو گدی کا مہنت بنائے جانے کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ باگھمبری گدی گری نامی سنیاسیوں کی ہے۔ ایسے میں پوری نامی سنیاسی کا مہنت بننا مناسب نہیں ہے۔ مہنت نریندر گری نے اپنے لوگوں کے ساتھ مل کر ان کے ساتھ جھگڑا کیا۔ رسوائی سے دلبرداشتہ بالکشن پوری مٹھ چھوڑ کر فوراً وہاں سے ہٹ گئے۔

ہرگوند پری کے شاگرد نریندر پوری سے نریندر گری بن کر باگھمبری مڈھ کے وارث اور بڑے ہنومان مندر کے مہنت کا عہدہ سنبھالا۔ اس کے بعد سے ہی باگھمبری مٹھ کی زمینوں کو فروخت اور غیر قانونی پٹہ پر دینے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کئی بار نااہل لوگوں کو مہامنڈ لیشور بنانے کے سلسلے میں بھی مہنت نریندر گری تنازعات میں رہے۔ داتی مہاراج اور سچن دتا کو مہامنڈلیشور بنائے جانے پر سنت سماج ہی ان کے خلاف کھڑا ہوگیا۔ اس کے بعد نریندر گری کے شاگرد آشیش گری کی پراسرار موت پر بھی تناع کھڑا ہوا۔ پولیس کو ان کے کمرے سے پستول برآمد ہوئی تھی۔


باگھمبری گدی کے تحت کتنے کروڑ روپئے کی ملکیت ہے اس کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جاسکتا لیکن اترپردیش کے علاوہ دیگر ریاستوں میں بھی ایک محتاط اندازے کے مطابق کئی ہزار کروڑ روپئے کی ملکیت ہے۔ مہنت نریندر گری کا 20 ستمبر کو مشتہ حالات میں موت ہوگئی جس کی جانچ سی بی آئی کررہی ہے۔ مہنت نے اپنا ایک سوسائڈ نوٹ بھی چھوڑا ہے جس میں کئی راز قلم بند کئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔