’عوام پر مہنگائی مین مودی کا چابک پھر چلا‘، سی این جی کی قیمت میں 2 روپے اضافہ کے بعد کانگریس کا سخت رد عمل

کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت اپنے ’امیر دوستوں‘ کو فائدہ پہنچانے کے لیے عام لوگوں پر مہنگائی کا بوجھ ڈال رہی ہے۔

پی ایم مودی، تصویر یو این آئی
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

ہندوستان میں کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہونے کے بعد کانگریس نے مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کی ہے۔ منگل کو سی این جی کی قیمت میں 2 روپے فی کلو اضافہ کر دیا گیا، جس کے بعد کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے اسے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بوجھ قرار دیا۔

کانگریس نے ’ایکس‘ پر جاری کردہ پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’عوام پر ’مہنگائی مین‘ مودی کا چابک ایک بار پھر چل گیا ہے۔ سی این جی 2 روپے مہنگی کر دی گئی ہے۔ گزشتہ 12 دنوں میں سی این جی کی قیمت میں مجموعی طور پر 6 روپے کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔‘‘ پارٹی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ بھی جانکاری دی ہے کہ حالیہ دنوں میں سی این جی کی قیمتیں کئی بار بڑھائی گئی ہیں۔ کانگریس کے مطابق 15 مئی کو قیمت میں 2 روپے، 18 مئی کو 1 روپیہ، 23 مئی کو 1 روپیہ اور اب 26 مئی کو مزید 2 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔


اپنے بیان میں کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت اپنے ’امیر دوستوں‘ کو فائدہ پہنچانے کے لیے عام لوگوں پر مہنگائی کا بوجھ ڈال رہی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام شہریوں، خاص طور پر متوسط اور نچلے طبقے کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سی این جی کی قیمت میں اضافے کا اثر صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات عوامی نقل و حمل اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ جب ایندھن کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا اثر بالواسطہ طور پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے۔