مدھیہ پردیش: 24 بچوں کی جان لینے والے کف سیرپ معاملے میں ایس آئی ٹی کی کارروائی، 2 ڈاکٹر گرفتار
اس ہائی پروفائل معاملے میں پراسیا کے ڈاکٹر پروین سونی سمیت 9 ملزمین گزشتہ 6 ماہ سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ تازہ ترین گرفتاریوں کے بعد اب اس معاملے میں ملزمین کی کل تعداد 11 ہو گئی ہے۔

مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ ضلع میں سرخیوں میں رہے کولڈریف کف سیرپ معاملے سے متعلق بڑی خبر سامنے آئی ہے جس میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے کارروائی کرتے ہوئے 2 معروف ڈاکٹروں ڈاکٹرامن صدیقی اور ڈاکٹر ایس ایس ٹھاکر کو گرفتار کیا ہے۔ ہفتے کے روز دونوں کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی، جس کے بعد ٹھوس شواہد کی بنیاد پرانہیں گرفتارکرلیا گیا۔ اس کارروائی کے بعد ایک بار پھر کوئلانچل علاقے کے میڈیکل حلقے میں افراتفری مچ گئی۔
یہ پورا معاملہ ان 24 معصوم بچوں کی مشتبہ موت سے متعلق ہے جن کی جان مبینہ طور پر اس مہلک کف سیرپ کے استعمال سے گئی تھی۔ ایس آئی ٹی گزشتہ کئی ماہ سے اس ’موت کے نیٹ ورک‘ کی کڑیوں کو جوڑنے میں مصروف تھی۔ تحقیقات کے دوران ٹیم کو ادویات کی تقسیم، ذخیرہ اندوزی اور نسخوں سے متعلق کچھ چونکا دینے والے دستاویزات ملے ہیں، جن سے ان ڈاکٹروں کا کردار مشتبہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ دوا کی سپلائی چین میں بڑی بے ضابطگیاں کی گئی تھیں جس پر ایس آئی ٹی نے اب اپنا شکنجہ کس دیا ہے۔ پراسیا کے ایس ڈی او پی اور ایس آئی ٹی کے سربراہ جتیندرجاٹ نے بتایا کہ کولڈریف سیرپ معاملے کی تحقیقات کی بنیاد پر دو ڈاکٹروں ڈاکٹرامن صدیقی اور ڈاکٹر ایس ایس ٹھاکر کو حراست میں لیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس ہائی پروفائل معاملے میں پراسیا کے ڈاکٹر پروین سونی سمیت 9 ملزمین گزشتہ 6 ماہ سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ تازہ ترین گرفتاریوں کے بعد اب اس معاملے میں ملزمین کی کل تعداد 11 ہو گئی ہے۔ پولیس اور خصوصی تفتیشی ٹیم اب اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا اس ’کھیل‘ میں کوئی بڑا بین ریاستی گروہ ملوث ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ یہ سیرپ بغیر کسی لائسنس یا معیاری جانچ کے مقامی کلینکس اور میڈیکل اسٹورز تک کیسے پہنچا۔
دریں اثنا طویل عرصے سے انصاف کے لیے بھٹک رہے متاثرین کے اہل خانہ نے گرفتاریوں کے بعد راحت کا سانس لیا ہے۔ اپنے بچوں کو کھونے والے والدین کا کہنا ہے کہ سفید کوٹ کے پیچھے چھپے ان چہروں کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے۔ کوئلانچل علاقے میں اس کارروائی سے بڑے پیمانے پر بحث شروع ہو گئی ہے اور سماجی تنظیموں نے بھی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کیس کی سماعت فاسٹ ٹریک عدالت میں کی جائے۔ ایس آئی ٹی کے افسران کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں تحقیقات جاری ہے اور آنے والے دنوں میں کچھ اور بااثر نام سامنے آسکتے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔