مدھیہ پردیش: شیوراج چوہان کا تختہ پلٹ کر سکتے ہیں کمل ناتھ، جانیں کیسے!

اسمبلی ضمنی انتخابات بی جے پی اور کانگریس کے لئے انتہائی اہم ہیں اور دونوں جماعتیں اپنی پوری طاقت کا استعمال کریں گی، ایک جماعت کو حکومت کا دفاع کرنا ہے اور دوسری کو تختہ پلٹ انجام دینا ہے

کانگریس لیڈر کمل ناتھ کی فائل تصویر / Getty Images
کانگریس لیڈر کمل ناتھ کی فائل تصویر / Getty Images
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: مدھیہ پردیش میں اسمبلی کی 27 خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن جلد ہی اعلان کر سکتا ہے۔ یہ ضمنی انتخابات بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور کانگریس (کانگریس) دونوں کے لئے انتہائی اہمت کے حامل ہیں۔ جیوتیرادتیہ سندھیا کے کانگریس سے بغاوت کر کے بی جے پی کا دامن تھام لینے اور شیوراج چوہان کے حکومت سازی کر لینے کے بعد یہ ضمنی انتخابات ہی طے کریں گے کہ اب اسمبلی میں اکثریت کس کے پاس رہے گی۔

’این ڈی ٹی وی انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق اقتدار کے دفاع کے لئے بی جے پی کو کم از کم 9 سیٹیں حاصل کرنی ہوں گی، اس سے کم نشستیں حاصل ہونے کی صورت میں بی جے پی کا کھیل خراب بھی ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف کانگریس اور سابق وزیر اعلی کمل ناتھ کے لئے یہ ضمنی انتخابات بڑا چیلنج پیش کرنے والے ہیں کیونکہ انہیں تختہ پلٹ کرنے کے لئے تمام 27 سیٹیں حاصل کرنا ہوں گی۔

ریاستی اسمبلی میں کل 230 نشستیں ہیں جن میں سے 27 نشستیں خالی ہیں۔ اس وقت 203 نشستوں والی اسمبلی میں بی جے پی کی شیو راج سنگھ چوہان حکومت کے 107 ارکان اسمبلی ہیں، جو اکثریتی تعداد سے پانچ زیادہ ہیں۔ جبکہ کانگریس کے پاس اس وقت صرف 89 ایم ایل اے ہیں۔ ضمنی انتخاب کے بعد اکثریتی تعداد 116 ایم ایل اے کی ہوگی، جس تک پہنچنے کے لئے بی جے پی کو کم از کم 9 اور کانگریس کو تمام 27 سیٹیں جیتنی ہوں گی۔ اگر بی جے پی نے ضمنی انتخاب میں 9 سے کم نشستیں حاصل کرتی ہے تو اسے سماج وادی پارٹی (ایس پی)، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) یا آزاد امیدواروں سے رجوع کرنا پڑے گا۔

وہیں موجودہ وقت میں 89 ارکان اسمبلی والی کانگریس کو واضح اکثریت حاصل کرنے کے لئے ضمنی انتخاب میں تمام 27 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا ہوگی، جبھی اس کا اقتدار میں واپس آنے کا خواب پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے۔ تاہم اگر بی جے پی 9 سے بھی کم سیٹیں حاصل کرتی ہے اور کانگریس 20 سے زیادہ سیٹیں جیت لیتی ہے، تو کمل ناتھ 4 آزاد امیدواروں، 2 بی ایس پی اور ایس پی کے ایک رکن اسمبلی کی حمایت حاصل کر کے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

سابق وزیر اعلی کمل ناتھ نے جمعرات کو کہا کہ مدھیہ پردیش میں آئندہ ضمنی انتخابات نہ تو عام انتخابات ہیں اور نہ ہی صرف ضمنی انتخابات بلکہ یہ ’ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والے انتخابات‘ ہیں۔ مدھیہ پردیش کی 27 اسمبلی نشستوں پر آئندہ ضمنی انتخاب کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر کمل ناتھ نے نامہ نگاروں سے کہا، ’’یہ ضمنی انتخابات عام انتخابات نہیں ہیں۔ میں انہیں محض ضمنی انتخابات بھی نہیں سمجھتا۔ یہ انتخابات مدھیہ پردیش کے مستقبل کے لئے ہیں۔ سابق وزیر اعلی اور ریاستی کانگریس کے صدر کمل ناتھ نے مزید کہا، ’’میں نے پچھلے چار ماہ سے پارٹی کو مضبوط بنانے کے لئے کام کیا ہے۔ کیونکہ ہماری لڑائی بی جے پی کی کامیابیوں سے نہیں، بلکہ ان کی تنظیم سے ہے۔‘‘

خیال رہے کہ جیوتیرادتیہ سندھیا نے 22 ارکان اسمبلی کے ساتھ کانگریس سے بغاوت کر کے بی جے پی سے ہاتھ ملا لیا تھا، وہ فی لاحال بی جے پی کی حمایت سے راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ اب جن 27 نشستوں پر ضمنی انتخابات ہونے ہیں ان میں سے 16 نشستیں گوالیار۔چمبل خط میں واقع ہیں۔ یہی وجہ سے کہ کانگریس کی پوری توجہ اسی علاقہ پر مرکوز ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 28 Aug 2020, 5:29 PM