مدھیہ پردیش: کمل ناتھ کا ایک اور بڑا فیصلہ، ’ویاپم گھوٹالہ‘ کی جانچ کا حکم

شیوراج حکومت میں ہوئے مبینہ ویاپم گھوٹالہ کی جانچ کا مطالبہ کانگریس پہلے سے ہی کرتی رہی ہے،اب جب کہ مدھیہ پردیش میں کانگریس نے اقتدار سنبھال لیا ہے تو نمائندہ وفد کی گزارش پر جانچ کا حکم صادر کیا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مدھیہ پردیش میں وزیر اعلیٰ عہدہ کی ذمہ داری سنبھالتے ہی کمل ناتھ نے یکے بعد دیگرے کئی بڑے فیصلے لینے شروع کر دئیے ہیں۔ کسانوں کی قرض معافی کے بعد ’ویاپم گھوٹالہ‘ کی جانچ کا حکم دے کر کمل ناتھ نے شیوراج سنگھ چوہان کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ بی جے پی حکومت کے دوران ویاپم کے ذریعہ لیے گئے چوتھے گروپ کے اسسٹنٹ گریڈ کے امتحان میں دھاندلی کی بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، اور اب کانگریس نے اس کے خلاف جانچ کرنے کا فیصلہ لے لیا ہے۔

اس سلسلے میں ’بے روزگار سینا‘ کے سربراہ اکشے ہنکا نے 18 دسمبر کو میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ جولائی میں چوتھے گروپ کے لیے اسسٹنٹ گریڈ تین کا امتحان شبہات کے دائرے میں ہے۔ امتحان کے 10 ٹاپر میں سے کئی لوگ گزشتہ امتحانات میں 40 فیصد نمبر بھی حاصل نہیں کر سکے تھے اور اس امتحان میں انھیں 95 فیصد نمبر حاصل ہوئے جو صاف طور پر بڑے گھوٹالے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اکشے کا کہنا ہے کہ ’’اس گھوٹالے کی جانچ کے لیے نوجوانوں کا ایک نمائندہ وفد وزیر اعلیٰ کمل ناتھ سے ملا اور انھوں نے اس امتحان کی جانچ کرانے کا حکم صادر کر دیا ہے۔‘‘

دراصل کئی امتحان دہندگان اس گھوٹالے کی ایس آئی ٹی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے 18 دسمبر کی صبح چنار پارک میں جمع ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ اگر چوتھے گروپ کے سبھی منتخب امتحان دہندگان کی جانکاری برسرعام کی جائے تو سینکڑوں معاملے سامنے آئیں گے۔ جو نمائندہ وفد وزیر اعلیٰ کمل ناتھ سے ملا تھا ان میں ’بے روزگار سینا‘ کے سربراہ اکشے ہُنکا کے علاوہ کانگریس رکن اسمبلی کنال چودھری و دیگر طلبا بھی شامل تھے۔ کمل ناتھ نے ان سبھی کی بات سننے کے بعد جانچ کا حکم دیا۔

واضح رہے کہ 28 سے 31 جولائی کے درمیان منعقد مذکورہ امتحان میں 2700 عہدوں کے لیے تقریباً 140000 امتحان دہندگان شامل ہوئے تھے۔ یہ امتحان شروع سے ہی تنازعات میں رہے ہیں۔ اس امتحان میں سَرور خراب ہونے کی شکایت کے بعد تقریباً 250 لوگوں نے 45 دن بعد دوبارہ امتحان دیا تھا۔ 12 دسمبر کو اس کا نتیجہ آیا جس میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگی کی بات سامنے آئی۔ شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ 10 ٹاپروں میں چھ ایسے ہیں جن کے گزشتہ امتحان میں 50 فیصد نمبر بھی نہیں آئے تھے۔ حیرت انگیز طریقے سے اس بار ان کے 95 فیصد نمبر آئے ہیں۔