مغربی یوپی میں بھی مویشیوں پر ’لمپی‘ کا حملہ، مویشی پروروں میں دہشت

لمپی بیماری نے کئی اضلاع میں پیر پسارنا شروع کر دیا ہے۔ ہر گاؤں میں اس مرض سے متاثر مویشی کا پتہ چل رہا ہے۔

تصویر آس محمد کیف
تصویر آس محمد کیف
user

آس محمد کیف

مغربی اتر پردیش میں مویشی پرور کسان ایک بڑی فکر میں پھنستے نظر آ رہے ہیں۔ یہاں دودھ دینے والے مویشیوں، خصوصاً گائے اور بھینس میں ایک خطرناک بیماری کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ’لمپی‘ بیماری ہے جس نے گزشتہ کچھ مہینے سے کئی مقامات پر مویشیوں کے درمیان قہر برپا کیا ہوا ہے۔ اس بیماری کے اثر سے مویشیوں کے جسم پر گانٹھیں بن جاتی ہیں اور مویشی جسمانی طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔ پہلے تو وہ دودھ دینا بند کر دیتی ہیں اور اس کے بعد موت کی نیند سو جاتی ہیں۔

حالات بتاتے ہیں کہ یہ امراض چرم ہے جو مویشیوں پر اپنے خطرناک اثرات چھوڑتا ہے۔ لمپی بیماری نے کئی اضلاع میں پیر پسارنا شروع کر دیا ہے۔ ہر گاؤں میں اس مرض سے متاثر مویشی کا پتہ چل رہا ہے۔ ہندوستانی مویشی طبی تحقیقی ادارہ بریلی کی ٹیم مختلف اضلاع میں دورہ کر حالات کا جائزہ لے رہی ہے اور جانچ کے لیے سیمپل بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ تازہ جانکاری یہ دی گئی ہے کہ لمپی بیماری وائرس سے پھیلتی ہے جو کہ متعدی ہے۔ لمپی نے مویشی پروروں کی پریشانیاں کافی بڑھا دی ہیں۔


مجھیڑا گاؤں کے کسان جوگیندر چودھری کا کہنا ہے کہ مویشی کے طبی افسر کو خبر دی گئی ہے کہ ایک مویشی بیمار ہے، پھر بھی وہ دیکھنے نہیں پہنچے ہیں۔ یہاں ایک گائے نے سب سے پہلے دودھ دینا کم کیا، پھر اس نے بے چینی دکھائی، اور دوسرے دن گائے کے جسم پر بڑے زخم دکھائی دینے لگے۔ مویشیوں میں پھیل رہی اس متعدی بیماری سے کسانوں میں دہشت ہے۔ مویشی افسران کہہ رہے ہیں کہ مویشیوں کو الگ الگ باندھ کر رکھیں، لیکن کسانوں کی پریشانی یہ ہے کہ اتنی جگہ کہاں سے دستیاب ہو۔ کسان یہ بھی سوال کر رہے ہیں کہ کہیں سفر نہیں ہو رہا پھر انفیکشن اتنی تیزی کے ساتھ کیسے پھیل رہا ہے۔ اس علاقے میں ہزاروں مویشی کے اس مرض میں مبتلا ہونے کی خبریں ہیں۔

مظفر نگر کے آر ایل ڈی رکن اسمبلی چندن چوہان نے بیماری کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکومت سے اس کے بہتر علاج کا انتظام کرنے کی گزارش کی ہے۔ چندن بتاتے ہیں کہ موجودہ وقت میں لمپی بیماری نے ریاست کے بیشتر حصوں میں پھیلاؤ کر لیا ہے اور مویشی بڑی تعداد میں متاثر ہو رہے ہیں۔ اس بیماری کی وجہ سے مویشیوں کی اموات میں بھی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہ کسانوں کو بڑا معاشی نقصان پہنچا رہی ہے، حکومت کو اس سلسلے میں خاطر خواہ قدم اٹھانے چاہئیں۔ چندن چوہان نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ دیگر ریاستوں سے مویشیوں کی خریداری پر فوری روک لگائی جانی چاہیے، تاکہ اس کا پھیلاؤ نہ ہو۔ اس بیماری سے متعلق کسانوں و مویشی پروروں میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی انھوں نے زور دیا اور کہا کہ اس بیماری سے مویشی کی موت پر معاوضہ دیئے جانے کا انتظام بھی ہونا چاہیے۔


قابل ذکر ہے کہ لمپی بیماری سب سے زیادہ گایوں میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ شمالی اور مظفر نگر میں اس کے اثرات زیادہ دکھائی دے رہے ہیں۔ مویشی پرور صابر قریشی کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں مویشی ہریانہ اور ہماچل سے آتے ہیں جہاں بیماری پہلے ہی تیزی سے پھیل رہی تھی۔ بیماری متعدی ہے، اس لیے تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے۔ گائے کے دودھ پینے سے بچھڑے میں بھی اس کا اثر دیکھنے میں آ رہا ہے۔ صابر بتاتے ہیں کہ کسان فکرمند ہیں اور مویشیوں کی خریداری بالکل بند ہو گئی ہے۔ بیماری کا سیدھا اثر مویشیوں کے کاروبار پر پڑنا شروع ہو گیا ہے۔

گئو رکشا مہم سے جڑے دیپک کرشناترے بھی اس بیماری کے گئوشالہ میں پھیلنے کا ممکنہ اندیشہ ظاہر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب سڑکوں سے مویشیوں کو گئوشالہ میں لے جایا جاتا ہے تو مرض کے متعدی ہونے کے سبب وہ پھیل سکتا ہے۔ گئوشالاؤں میں بڑی تعداد میں گائے ہونے کے سبب یہ سنگین خطرہ ہے۔ مویشی کے علاج سے جڑے افسران لاپروائی کر رہے ہیں جو فکر انگیز ہے۔


کسان لیڈر اکھلیش چودھری بیماری پر محکمہ مویشی کی کوششوں کو ناکافی قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بیماری پھیلنے کے بعد اب محکمہ کاغذی سرگرمی دکھا رہا ہے۔ یہ بیماری 8 ریاستوں میں اپنا قہر دکھا چکی ہے۔ اب تک ہزاروں مویشیوں کی موت ہو چکی ہے۔ اب ہوا میں ہاتھ پیر مار کر وہ خود کو تیس مار خاں ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی میں سنجیدہ ہے تو وہ مویشی طبی افسر گاؤں گاؤں دورے پر بھیجے اور مکمل سنجیدگی کے ساتھ معاملے کو سنبھالے۔ ورنہ کسان سڑکوں پر نکل کر مظاہرہ کرنے کے لیے مجبور ہوں گے۔

مظفر نگر کے ویٹرینری افسر دنیش تومر کہتے ہیں کہ مویشی معالجین کے سروے میں بیماری کے لگاتار معاملے سامنے آ رہے ہیں۔ مویشی پروروں کو اس سے بچاؤ کے لیے مشورے دیئے جا رہے ہیں۔ متاثرہ مویشی کو صحت مند مویشی سے الگ رکھ کر ہی بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ مویشی پرور گھبرانے کی جگہ احتیاط سے کام لیں۔ متاثرہ مویشی کو باندھنے والی جگہ پر فورمیلن، ایتھر، کلوروفارم، الکحل اور دیگر دستیاب جراثیم کش کا چھڑکاؤ کر سکتے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔