کلب ہاؤس چیٹ کیس میں لکھنؤ کے طالب علم سے پوچھ گچھ جاری، ہریانہ سے تین ملزمان گرفتار

کلب ہاؤس چیٹ پر خواتین کے خلاف نفرت پھیلانے کے معاملے میں ممبئی پولیس نے اب تک ہریانہ سے تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے، اس کے علاوہ دہلی پولیس لکھنؤ کے ایک طالب علم سے بھی پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

کلب ہاؤس ایپ
کلب ہاؤس ایپ
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سلی ڈیل اور بلی بائی ایپ کے بعد کلب ہاؤس نامی ایپ بنا کر خواتین کے خلاف توہین آمیز تبصرے کئے گئے ہیں۔ دہلی اور ممبئی پولیس اس معاملہ میں تحقیقات کر رہی ہے، ممبئی پولیس نے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ آج تک کی رپورٹ کے مطابق جب پولیس نے اس معاملے میں تکنیکی سراغ حاصل کیے تو کلب ہاؤس کے بنانے والے کے بارے میں کچھ معلومات حاصل ہوئیں۔ اس کے بعد پولیس نے لکھنؤ کے طالب علم سے پوچھ گچھ شروع کر دی۔

دہلی پولیس کے مطابق ایک ٹیم لکھنؤ بھیجی گئی تھی۔ یہاں بسم اللہ نام سے آئی ڈی چلانے والے راہل کپور نامی شخص کو ٹریک کیا گیا۔ پولیس کی پوچھ گچھ میں اس نے اعتراف کیا ہے کہ سیلوس نامی صارف کے کہنے پر اس نے کلب ہاؤس میں آڈیو چیٹ روم بنایا اور کنٹرول اسے سونپ دیا۔ پولیس نے راہل کا موبائل فون ضبط کر لیا ہے اور وہ شام تک دہلی میں تفتیش میں شامل ہو رہا ہے۔


اس سے قبل ممبئی کی ایک خاتون کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے ممبئی سائبر کرائم پولیس نے اس معاملے میں 3 ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ ممبئی پولیس کے مطابق تکنیکی تجزیہ کے ذریعے تین ملزمان کی شناخت کی گئی ہے، جنہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایک ملزم آکاش کو کرنال سے گرفتار کیا گیا ہے جس کی عمر 19 سال ہے۔ دو دیگر ملزمان کو فرید آباد سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں 21 سالہ جیشنو ککڑ بی کام کا طالب علم ہے، جبکہ 22 سالہ یش پراشر قانون کا طالب علم ہے۔

پولیس کے مطابق اس معاملہ کا ملزم آکاش ماڈیریٹر تھا جبکہ دیگر شرکاء بھی تھے۔ خواتین سمیت بہت سے لوگ اس میں ملوث ہیں۔ بہت سے لوگوں کو صرف سنا جا سکتا ہے۔ تاہم جس کی بھی نشاندہی ہوگی اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ پولیس نے تمام ملزمان کا ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کر لیا ہے اور تینوں ملزمان کو ممبئی لایا جا رہا ہے۔


بتایا جا رہا ہے کہ 16 جنوری سے 19 جنوری کے درمیان اس ایپ پر دو چیٹ روم بنائے گئے تھے۔ اس میں آکاش کی شناخت اہم ملزم کے طور پر کی گئی ہے، جبکہ دیگر نے اس میں حصہ لیا۔ تینوں ملزمان سے تفتیش کے بعد مزید معلومات سامنے آئیں گی۔ رپورٹ کے مطابق ابھی تک اس ایپ پر چیٹس پر کسی خاص ذات یا مذہب کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔ یہاں خواتین کو نشانہ بنا کر ان کے خلاف بحث کی گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔