لکھنؤ: اسمبلی میں گونجا مظاہرین کے خلاف پولیس کی زیادتی کا معاملہ

اترپردیش اسمبلی میں بجٹ سیشن کے دوسرے دن جمعہ کو سی اے اے مظاہرین پر پولیس کی کارروائی اور ریاست میں نظم و نسق کی ابتر صورت حال پر حزب اختلاف نے زبردست ہنگامہ کیا

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

لکھنؤ: اترپردیش اسمبلی میں بجٹ سیشن کے دوسرے دن جمعہ کو سی اے اے مظاہرین پر پولیس کی کارروائی اور ریاست میں نظم و نسق کی ابتر صورت حال پر حزب اختلاف نے زبردست ہنگامہ کیا۔ اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے وقفہ سوال کے اندر اسپیکر کو اسمبلی کی کاروائی دو بار ملتوی کرنی پڑی۔

اہم اپوزیشن سماجوادی پارٹی نے اس وقت اسمبلی سے واک آوٹ کیا جب اسمبلی اسپیکر ہردئے نارائن دکشت نے سی اے اے مظاہرین پر پولیس کی کاروائی کے خلاف ان کی التواء کی نوٹس کو نامنظور کر دیا۔ اپوزیشن لیڈر رام گوند چودھری کے مطابق جب اسمبلی میں بولنے کی اجازت نہیں ہے تو پھر وہاں رکنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

سماجوادی پارٹی کے نقش قدم پر عمل کرتے ہوئے بی ایس پی لیڈر لال جی ورما نے یو پی میں احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات کو برٹش راج کے جلیانوالہ باغ قتل عام سے تعبیر کیا۔ تاہم کانگریس نے اپنا احتجاج جاری رکھا اور اس کے اراکین ابتر نظم ونسق اور سی اے اے مخالف احتجاج کے دوران پولیس کی کاروائی کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ویل میں آگئے۔

اپوزیشن پارٹیوں کے اس عمل کو ’مایوس کن‘ قرار دیتے ہوئے اسپیکر نے اسمبلی کی کاروائی کو 20 منٹ کے لئے ملتوی کر دیا اس کے بعد انہوں نے پارلیمانی امور کے ریاستی وزیر سریش کمار کھنہ کو بولنے کی اجازت دی لیکن ہنگامہ کو ختم ہوتا نہ دیکھ اسپیکر نے دوبارہ اسمبلی کی کاروائی ملتوی کر دی۔

کھنہ نے الزام لگایا کہ اپوزیشن پارٹیاں جرائم پیشہ افراد کو بچانے کی کوشش کررہی ہیں اور دعوی کیا کہ ریاست کا نظم ونسق اس وقت کافی بہتر ہے۔ا سمبلی کی کاروائی ملتوی ہونے کی وجہ سے وقفہ سوالات متأثر ہوا۔