لکھنؤ: ’مندر کے لیے 76 لاکھ منظور کرائے، پھر بھی مجھے پوجا سے روکا‘، بی جے پی کی دلت رکن اسمبلی کا اپنی ہی انتظامیہ پر الزام

رکن اسمبلی جے دیوی کوشل نے الزام لگایا کہ مندر کی تجدید کے لیے 76 لاکھ روپے منظور کرانے کے باوجود انہیں پوجا اور آرتی سے دور رکھا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’دلت‘ ہونے کی وجہ سے ان سے امتیازی سلوک کیا گیا

<div class="paragraphs"><p>ملیح آباد سے بی جے پی کی رکن&nbsp;اسمبلی جے دیوی کوشل /&nbsp; آئی اے این ایس</p></div>
i

لکھنؤ: اتر پردیش کے لکھنؤ میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی دلت رکن اسمبلی جے دیوی کوشل نے اپنی ہی انتظامیہ پر امتیازی سلوک کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شیتلا دیوی مندر کی تجدید کے لیے انہوں نے 76 لاکھ روپے منظور کرائے، لیکن جب وہ تجدیدی تقریب میں پوجا کے لیے پہنچیں تو انہیں نہ صرف پوجا سے دور رکھا گیا بلکہ آرتی میں بھی شامل نہیں ہونے دیا گیا۔

ملیح آباد اسمبلی حلقے سے بی جے پی کی رکن اسمبلی جے دیوی کوشل کے مطابق بدھ کو کاکوری کے شیتلا دیوی مندر میں تجدیدی کام کی تقریب منعقد ہوئی۔ وہ وہاں پوجا میں شرکت کے لیے پہنچی تھیں۔ ان کے ساتھ چیئرمین، کونسلر اور منڈل صدر سمیت پارٹی کے دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔

جے دیوی کوشل نے آئی اے این ایس سے گفتگو میں کہا کہ شیتلا دیوی مندر کے لیے 76 لاکھ روپے انہوں نے منظور کرائے تھے۔ ان کے مطابق جب مندر میں پوجا کا وقت آیا تو انہیں پوجا نہیں کرنے دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں موجود کچھ لوگوں نے یہ بات بھی کہی کہ چونکہ وہ رکن اسمبلی ہیں اور انہوں نے مندر کے کام کے لیے رقم منظور کرائی ہے، اس لیے ان سے پوجا کرائی جانی چاہیے، لیکن اس کے باوجود انہیں موقع نہیں دیا گیا۔

رکن اسمبلی کا کہنا ہے کہ اس دوران وہ خاموشی سے کھڑی رہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ انہیں آرتی کرنے سے بھی روک دیا گیا۔ جے دیوی کوشل کے مطابق انہوں نے موقع پر کسی قسم کا احتجاج نہیں کیا اور بعد میں دوسری جگہ ہونے والے پوجن پروگرام میں شرکت کے لیے چلی گئیں۔


دو مرتبہ کی رکن اسمبلی جے دیوی کوشل نے کہا کہ مرکز اور ریاست دونوں جگہ ان کی جماعت کی حکومت ہے، اس کے باوجود ان کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ درست نہیں ہے۔ جے دیوی کوشل نے اس واقعے کو ایک سازش قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کے ساتھ اس لیے امتیاز کیا جاتا ہے کیونکہ وہ پاسی سماج (دلت) سے تعلق رکھتی ہیں۔

ان کے الزامات نے اس سوال کو بھی نمایاں کیا ہے کہ ایک منتخب عوامی نمائندے کو، جو حکمراں جماعت سے تعلق رکھتی ہیں اور جس کے مطابق انہوں نے مندر کی تجدید کے لیے سرکاری رقم منظور کرائی، اسی تقریب میں پوجا سے کیوں دور رکھا گیا؟

اس معاملے پر سابق مرکزی وزیر اور جے دیوی کوشل کے شوہر کوشل کشور نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاسی سماج نے سناتن دھرم کی حفاظت کے لیے قربانیاں دی ہیں اور مظالم برداشت کیے ہیں۔

کوشل کشور نے مزید کہاس کہ جے دیوی کوشل کو کاکوری کے شیتلا ماتا مندر میں پہلے سے طے شدہ تجدیدی بھومی پوجن سے ایک سازش کے تحت روک کر ان کی توہین کی گئی۔ کوشل کشور نے اس واقعے کو انتہائی قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سناتن دھرم کو کمزور کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔