مدھیہ پردیش میں ایل پی جی بحران! ساگر میں گھنٹوں قطار میں کھڑے آٹو ڈرائیور پریشان، پمپ سیل ہونے سے مشکلات میں اضافہ
اس دوران آٹورکشا یونین کے صدر پپو تیواری نے انتظامیہ کے دعوؤں پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ گیس کی وافر دستیابی کا دعویٰ کرتی ہے لیکن زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے سبب ملک کے مختلف حصوں پٹرولیم مصنوعات کے بحران کی خبروں کے درمیان مدھیہ پردیش کے ساگر میں ایل پی جی گیس کی قلت کی خبریں سامنے آرہی ہیں جس کی وجہ یہاں آٹو ڈرائیوروں کو بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ وہیں دوسری طرف ایک گیس پمپ سیل ہونے کے بعد دوسرے پمپوں پر لمبی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں جس سے ڈرائیوروں کا ذریعہ معاش بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
ساگر شہر میں ان دنوں آٹورکشا چلانے والوں کے سامنے ایل پی جی گیس کا سنگین مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ تیلی تراہا (تیگڈا) میں واقع آگم ایل پی جی گیس پمپ پر صبح سے ہی آٹو کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ شدید گرمی میں آٹو ڈرائیوروں کو کئی کئی گھنٹے قطار میں کھڑے رہ کر گیس بھروانے کے لیے مجبور ہونا پڑرہا ہے۔
اس دوران آٹورکشا یونین کے صدر پپو تیواری نے انتظامیہ کے دعوؤں پر ناراضگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ گیس کی وافر دستیابی کا دعویٰ کرتی ہے لیکن زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ کئی ڈرائیور گھنٹوں انتظار کرنے کے بعد بھی ریفلنگ کیے بغیر واپس جانے پر مجبور ہیں جس سے ان کی روزی روٹی براہ راست متاثر ہورہی ہے۔
معلومات کے مطابق راحت گڑھ بس اسٹینڈ پر واقع ایک ایل پی جی گیس پمپ پر اوور چارجنگ کی شکایت موصول ہوئی تھی۔ اس پر ساگر کلکٹر سندیپ جی آر کی ہدایت پر پمپ کو سیل کر دیا گیا۔ ایک بڑا پمپ بند ہونے سے دوسرے پمپوں پر دباؤ بڑھ گیا جس سے گیس کی قلت مزید بڑھ گئی۔ آٹو یونین نے کلکٹر سے مداخلت کرکے جلد مسئلے کو حل کرنے کی اپیل کی ہے۔ یونین کا کہنا ہے کہ اگر گیس کی قلت کو دور نہیں کیا گیا تو آٹو ڈرائیوروں کو مالی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس دوران سندر یادو، راجیش شکلا، مونو خان، اور پون کھٹک سمیت کئی ڈرائیور موجود تھے۔