مغربی ایشیا کی جنگ کے دوران ہندوستان میں گھریلو گیس کا شدید بحران، کالابازاری پر اپوزیشن کا حکومت پر سخت حملہ

مغربی ایشا میں جاری کشیدگی اور ہندوستان میں گھریلو گیس کے شدید بحران کے درمیان ایک طرف جہاں کالابازاری کی شکایات کی جا رہی ہیں، وہیں حکومت نے سپلائی معمول پر ہونے کا دعویٰ کیا ہے

<div class="paragraphs"><p>اپوزیشن کا احتجاج</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی ایشیا میں ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی جب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، اسی دوران ملک میں گھریلو گیس کا بحران بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ توانائی کی عالمی سپلائی میں رکاوٹوں کے اثرات اب براہ راست عام لوگوں کی زندگی پر نظر آنے لگے ہیں، جہاں گیس سلنڈر کی کمی اور کالابازاری کی شکایات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف عوامی مشکلات کو بڑھایا ہے بلکہ سیاسی محاذ پر بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ٹکراؤ کو تیز کر دیا ہے۔

حکومت کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پٹرول سے لے کر ایل پی جی سلنڈروں تک سپلائی میں کوئی بڑی کمی نہیں آئی ہے، لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے۔ شہری اور صنعتی علاقوں میں گیس کی بکنگ کے بعد طویل انتظار اب معمول بنتا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ کئی دن گزر جانے کے باوجود انہیں سلنڈر فراہم نہیں کیا جا رہا، جس سے روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

نیشنل ہیرالڈ سے گفتگو کے دوران دہلی این سی آر کے صاحب آباد علاقے میں متعدد صارفین نے شکایت کی کہ انہوں نے کئی دن پہلے گیس بک کرائی تھی مگر اب تک ڈیلیوری نہیں ہوئی۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کے کنزیومر نمبر پر ڈیلیوری دکھا دی گئی، جبکہ حقیقت میں انہیں سلنڈر ملا ہی نہیں۔ ایک دیہاڑی مزدور رمیش نے بتایا کہ وہ گزشتہ سات دن سے گیس گودام کے چکر لگا رہا ہے، بکنگ کنفرم ہونے کے باوجود سلنڈر نہیں ملا۔ اس کا کہنا ہے کہ روزانہ کی کمائی متاثر ہو رہی ہے اور کھانا پکانا مشکل ہو گیا ہے۔

اسی طرح ویشالی کے ایک ڈھابہ مالک نے الزام لگایا کہ گیس سلنڈر کی کھلے عام کالابازاری کی جا رہی ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس نے سات سلنڈروں کے لیے تقریباً 35 ہزار روپے ادا کیے، یعنی فی سلنڈر قیمت 5 ہزار روپے تک پہنچ گئی، جو عام قیمت سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ایسے حالات میں چھوٹے کاروباری افراد اور مزدور طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے، جو وقت پر ایندھن نہ ملنے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کے پیچھے کچھ ڈھانچہ جاتی مسائل بھی کارفرما ہیں۔ ایک گیس ڈیلر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بہت سے شہری صارفین نے پائپ والی قدرتی گیس کا استعمال شروع کر دیا ہے مگر اپنے ایل پی جی کنکشن واپس نہیں کیے۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ ڈیلر سپلائی کو دوسری سمت موڑ دیتے ہیں اور مصنوعی قلت پیدا کر کے زیادہ منافع کماتے ہیں۔

حکومت نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے پالیسی سطح پر کچھ اقدامات کیے ہیں۔ حال ہی میں جاری کی گئی ایک نئی پالیسی کے تحت ان علاقوں میں ایل پی جی کی سپلائی محدود کرنے پر غور کیا جا رہا ہے جہاں پائپ گیس کا بنیادی ڈھانچہ موجود ہے مگر لوگ اسے استعمال نہیں کر رہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کا کہنا ہے کہ کالابازاری کے خلاف کارروائی تیز کر دی گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حالیہ دنوں میں 15000 چھاپے مارے گئے اور 12000 سلنڈر ضبط کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر گیس ریفل کے اصولوں میں تبدیلی کی افواہیں بھی تیزی سے پھیل رہی ہیں، جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بکنگ کے درمیان وقفہ بڑھا کر 25 دن سے 45 دن کر دیا گیا ہے۔ تاہم حکومت نے ان خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریفل کے نظام میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ادھر اپوزیشن نے اس معاملے پر حکومت کو سخت نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے رہنما پون کھیڑا نے کہا کہ حکومت مسائل کے حل کے بجائے صرف اپنی شبیہ سنوارنے میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی بنیادی ضرورت یہ ہے کہ انہیں آسانی سے گیس دستیاب ہو اور انہیں کالابازاری کا سہارا نہ لینا پڑے، مگر حکومت اس طرف سنجیدہ نظر نہیں آتی۔


پارلیمنٹ میں بھی اس مسئلے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور ایندھن کی قلت پر تشویش ظاہر کی۔ جیسے جیسے یہ بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے، عوام کے ذہن میں یہ سوال بھی شدت اختیار کر رہا ہے کہ آیا حکومت بروقت صورتحال کا اندازہ لگانے اور کالابازاری کو روکنے میں ناکام رہی، یا پھر اس کے تدارک کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے گئے۔

موجودہ حالات میں سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ سپلائی کو مستحکم بنایا جائے اور عام آدمی کو اس بحران کے اثرات سے بچایا جائے، ورنہ یہ مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔