آبنائے ہرمز بند ہونے کے سبب ایل پی جی استعمال میں 13 فیصد کی کمی، گھریلو سپلائی میں 8.1 فیصد کی بڑی گراوٹ درج

ہندوستان اپنی ایل پی جی کی کل ضروریات کا تقریباً 60 فیصد درآمد کرتا ہے، جس کا ایک اہم حصہ آبنائے ہرمز کے راستے آتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے سبب سپلائی میں بڑی رکاوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے۔

ایل پی جی سلنڈر، تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی ایشیا میں جاری بحران نے پوری دنیا کو بے حال کر رکھا ہے۔ اس بحران کے سبب سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا ہو چکی ہیں اور گزشتہ ماہ ہندوستان میں ایل پی جی کا استعمال تیزی سے کم ہوا ہے۔ خبروں کے مطابق اس مارچ ماہ میں ایل پی جی کا استعمال تقریباً 13 فیصد کم ہو کر 23.79 لاکھ ٹن رہ گیا جو کہ پچھلے سال مارچ ماہ میں 27.29 ملین ٹن تھا۔

پیٹرولیم پلاننگ اینڈ اینالیسس سیل (پی پی اے سی) کے مطابق مارچ میں گھریلو ایل پی جی کی سپلائی 8.1 فیصد کم ہو کر 22.19 لاکھ ٹن رہ گئی جبکہ غیر گھریلو صارفین کو دی جانے والی سپلائی میں 48 فیصد کی بھاری کمی درج کی گئی۔ ہول سیل ایل پی جی کی فروخت میں بھی 75 فیصد کمی ہوئی۔ دریں اثنا 39,000 سے زیادہ پی این جی صارفین نے اپنے ایل پی جی کنکشن سرنڈر کر دیے ہیں۔


دوسری طرف مارچ میں ہوابازی کے ایندھن کا استعمال تقریباً مستحکم رہا اور یہ تقریباً 8.07 لاکھ ٹن ریکارڈ کیا گیا، جو پچھلے سال کے تقریباً برابر ہے۔ دوسری جانب پٹرول اور ڈیزل کی مانگ مضبوط رہی۔ مارچ میں پٹرول کا استعمال 7.6 فیصد بڑھ کر 37.8 لاکھ ٹن ہو گیا، جبکہ ڈیزل کا استعمال 8.1 فیصد بڑھ کر 87.27 لاکھ ٹن ہو گیا۔

معلوم ہو کہ ہندوستان اپنی ایل پی جی کی کل ضروریات کا تقریباً 60 فیصد درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے، جس کا ایک اہم حصہ آبنائے ہرمز کے راستے آتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی کی وجہ سے اس اہم آبی گزرگاہ میں ناکہ بندی کی گئی ہے، جس کی وجہ سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ صورتحال کو سنبھالنے کے لیے حکومت نے گھریلو صارفین کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے ہوٹلوں، صنعتوں اور دیگر تجارتی شعبوں کو ایل پی جی کی سپلائی میں کمی کر دی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔