دہلی میں ایل پی جی سلنڈروں کی کالا بازاری بے نقاب، 74 سلنڈر برآمد، تین گرفتار
دہلی کے مہی پال پور علاقے میں پولیس نے چھاپہ مار کر ایل پی جی سلنڈروں کی کالا بازاری کا پردہ فاش کیا۔ 74 سلنڈر، گاڑی اور ریفلنگ آلات ضبط کیے گئے جبکہ تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا
.jpg?rect=0%2C0%2C2000%2C1125&auto=format%2Ccompress&fmt=webp)
جنوب مغربی دہلی کے علاقے مہی پال پور میں ایل پی جی سلنڈروں کی مبینہ کالا بازاری کے ایک بڑے معاملے کا انکشاف ہوا ہے، جہاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 74 سلنڈر برآمد کر لیے اور تین افراد کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی ہفتہ کے روز خفیہ اطلاع کی بنیاد پر انجام دی گئی، جس کے دوران غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور سپلائی کے ایک نیٹ ورک کا پردہ فاش ہوا۔
گرفتار ملزمان کی شناخت کرشنا، دنیش ساہو اور متھلیش کے طور پر ہوئی ہے، جن کی عمریں بالترتیب 33، 46 اور 39 سال بتائی گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ تینوں بہار کے رہنے والے ہیں لیکن گزشتہ کئی برسوں سے دہلی میں مقیم تھے اور مہی پال پور میں غیر قانونی ایل پی جی کاروبار چلا رہے تھے۔
چھاپے کے دوران پولیس نے 70 گھریلو اور چار کمرشیل سلنڈر برآمد کیے۔ اس کے علاوہ ایک ٹرانسپورٹ گاڑی، گیس بھرنے کے آلات، دھاتی پائپ اور وزن ناپنے والی مشینیں بھی ضبط کی گئیں۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ ملزمان بھرے ہوئے سلنڈروں سے گیس نکال کر خالی سلنڈروں میں منتقل کرتے تھے اور انہیں بغیر کسی بل یا لائسنس کے مقامی گاہکوں کو زیادہ قیمت پر فروخت کرتے تھے۔
پولیس افسر کے مطابق ملزمان کے پاس سلنڈروں کے ذخیرہ یا تقسیم سے متعلق کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں تھا۔ ضبط شدہ اشیا میں 54 بھرے ہوئے اور 16 استعمال شدہ گھریلو سلنڈر جبکہ تین بھرے ہوئے اور ایک استعمال شدہ کمرشیل سلنڈر شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ایک الیکٹرانک پیمانہ اور دیگر آلات بھی برآمد ہوئے، جو ریفلنگ کے عمل میں استعمال کیے جا رہے تھے۔
پولیس نے اس معاملے میں وسنت کنج نارتھ تھانے میں ضروری اشیا ایکٹ اور بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ابتدائی جانچ سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمان گزشتہ تین برسوں سے اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث تھے۔ پولیس اب اس نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ رابطوں اور خریداروں کی بھی جانچ کر رہی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔