کیرالہ میں لو جہاد: ’میٹرو مین‘ کے بیان پر گورنر عارف محمد خان کا رد عمل آیا سامنے

’لو جہاد‘ کے تعلق سے میٹرو مین ای. شری دھرن کے بیان پر صحافیوں نے کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان سے ان کا نظریہ جاننے کی کوشش کی، جس پر انھوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں تفصیلی رپورٹ دیکھیں گے۔

عارف محمد خان، تصویر آئی اے این ایس
عارف محمد خان، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

کیرالہ میں لو جہاد کو لے کر سیاست ایک بار پھر گرم ہو چکی ہے۔ میٹرو مین ای. شری دھرن کے ذریعہ کیرالہ میں ہندو لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر مذہب تبدیل کرائے جانے سے متعلق دیئے گئے بیان کے بعد کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان نے کہا ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ ایسا لگتا ہے جیسے عارف محمد خان نے ہندو لڑکیوں کے اسلام مذہب اختیار کرنے سے متعلق تفصیلی رپورٹ حاصل کر اس معاملے کی جانچ کا ذہن تیار کر لیا ہے۔

دراصل شری دھرن کے بیان پر صحافیوں نے عارف محمد خان سے ان کا نظریہ جاننے کی کوشش کی، جس پر عارف محمد خان نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں تفصیلی رپورٹ دیکھیں گے کیونکہ ای. شری دھرن کے بیان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ عارف محمد خان اتوار کے روز بی جے پی سے راجیہ سبھا رکن نریش بنسل کی رہائش پر ایک نجی پروگرام میں شریک ہوئے تھے، وہیں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے یہ باتیں کہیں۔

اپنے بیان میں کیرالہ کے گورنر نے کہا کہ ’’اگر شری دھرن جیسے شخص نے اس مسئلہ کو اٹھایا ہے، تو اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ اس بارے میں متعلقہ ایجنسیوں اور لوگوں سے سبھی تفصیل طلب کریں گے۔‘‘ اتحاد اور عدم برداشت جیسے معاملوں پر پوچھے گئے کچھ سوالوں کا بھی گورنر عارف محمد خان نے نامہ نگاروں کو جواب دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اس ملک میں ہمیں اتحاد اور عدم برداشت کی بات مغرب سے سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے لیے یہ قطعی نئی بات نہیں ہے۔ تنوع کو ہم صرف قبول نہیں کرتے بلکہ اس کا جشن مناتے ہیں۔ تنوع کو بہت عزت سے دیکھتے ہیں۔ یہ ہماری تہذیب اور ثقافت کا اہم حصہ ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next