مغربی یو پی: دوسرے مرحلہ میں بھی مشکل میں بی جے پی

پہلے مرحلہ کی پولنگ میں بی جے پی کے کئی وزراء پر ہار کا خطرہ منڈلا رہا ہے تو دوسرے مرحلہ میں بھی کئی بی جے پی ارکان پارلیمنٹ اس مرتبہ پارلیمنٹ سے دور رہ سکتے ہیں۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

آس محمد کیف

بی جے پی مغربی اتر پردیش میں لوک سبھا انتخابات کے پہلے مرحلہ میں پیچھے رہ جانے کے امکان کے درمیان دوسرے مرحلہ کی ووٹنگ بھی اسے مشکل میں ڈال سکتی ہے۔ دوسرے مرحلہ کی تشہیر اب ختم ہو چکی ہے اور 18 اپریل کو ووٹنگ ہونی ہے۔ جن پارلیمانی حلقوں میں پولنگ ہے وہاں بی جے پی حکومت کے خلاف ماحول ہے اور لوگوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔

دوسرے مرحلہ میں مغربی اتر پردیش کی 8 سیٹوں پر انتخابات ہونے ہیں جن میں نگینہ، امروہہ، بلند شہر، علی گڑھ، ہاتھرس، متھرا، آگرہ اور فتح پور سیکری سیٹ شامل ہیں۔ اس مرحلہ کو مختص سیٹوں کا گھمسان بھی کہا جا سکتا ہے کیوںکہ 8 میں سے 4 سیٹیں ریزرو کیٹگری کی ہیں۔ سال 2014 کے انتخابات میں ان تمام سیٹوں پر بی جے پی کے امیدوار کامیاب رہے تھے لیکن اس مرتبہ ماحول بی جے پی کے لئے سازگار نہیں ہے۔

مقامی باشندگان سے بات کرنے پر نظر آتا ہے کہ بی جے پی حکومت کے جھوٹے وعدوں اور سماج کو تقسیم کرنے کی پالیسی سے لوگوں میں شدید ناراضگی ہے۔ پہلے مرحلہ کی پولنگ میں بی جے پی کے کئی وزراء پر ہار کا خطرہ منڈلا رہا ہے تو دوسرے مرحلہ میں بھی کئی بی جے پی ارکان پارلیمنٹ اس دفعہ پارلیمنٹ سے دور رہ سکتے ہیں۔

تبدیل ہو چکے ماحول میں بی جے پی کے کئی ارکان پارلیمنٹ جیسے نگینہ سے ڈاکٹر یشونت سنگھ، بلند شہر سے بھولا سنگھ ، متھرا سے ہیما مالنی اور علی گڑھ سے ستیش گوتم کی کرسی چلے جانے کے کامل امکانات ہیں۔ بی جے پی کی حالت اتنی خراب ہے کہ آگرہ سے تین لاکھ ووٹوں سے جیت درج کرنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رام شنکر کٹھیریا کو عوامی مخالفت کے پیش نظر امیدوار تک نہیں بنایا گیا ہے۔

نگینہ میں بی ایس پی کے گریش چندر، بی جے پی کے یشونت سنگھ اور کانگریس کی اوم وتی دیوی کے درمیان سہ رُخی مقابلہ ہے۔ بلند شہر میں بھی بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ بھولا سنگھ بی ایس پی کے یوگیش ورما اور کانگریس کے بنسی پہاڑیا کے جال میں پھنس گئے ہیں۔ علی گڑھ میں کانگریس کے بجندر سنگھ نے بی جے پی کے ستیش گوتم کی حالت خراب کی ہوئی ہے۔ بی ایس پی کے امیدوار اجیت بالیان بھی دونوں کو سخت چیلنج دے رہے ہیں۔ آگرہ میں بی جے پی نے ایس پی بگھیل کو بھیج کر پہلے ہی بیک فٹ پر آ چکی ہے۔ فتح پور سیکری میں کانگریس کے ریاستی صدر راج ببر انتخابی میدان میں ہیں، وہ بی جے پی کے امیدوار راج کمار چاہر سے مقابلہ میں ہیں۔ راج ببر فتح پور سیکری سے پہلے بھی رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں، یہاں اتحاد اثر دار نظر نہیں آ رہا ہے۔

نگینہ لوک سبھا کے خورشید منصوری کے مطابق پہلے مرحلہ کی ووٹنگ کے بعد بی جے پی کے پیروں تلے کی زمین کھسک چکی ہے اور دوسرے مرحلہ میں بھی وہ اپنی تمام سیٹوں کو بچانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ نگینہ کے ہی مہندر جاٹو کے مطابق اس مرتبہ بی جے پی تمام مختص نشستوں پر ہارنے جا رہی ہے کیوںکہ سماج نے یکجا ہو کر بی جے پی کے خلاف رائے دہی کا فیصلہ کیا ہے۔ جن لوگوں کو اس بات پر بھروسہ نہیں ہے وہ پہلے مرحلہ کی ووٹنگ کے رجحان پر ایک نظر ڈال لیں۔

مغربی یو پی: دوسرے مرحلہ میں بھی مشکل میں بی جے پی

متھرا سیٹ کی بات کریں تو یہاں ہیما مالنی کی حالت زار جگ ظاہر ہے۔ ناراض ووٹروں کے کانگریس امیدوار مہیش پاٹھک کی طرف جھک جانے کی وجہ سے یہاں مقاملہ سہ رُخی ہو گیا ہے۔ یہاں ہیما مالنی کو سخت مخالفت کا سامنا ہے۔ اتحاد کی جانب سے کنور نریندر سنگھ یہاں سے چناؤ لڑ ہے ہیں۔

آگرہ کے آٹو ڈرائیور اندر جیت کے مطابق اس مرتبہ لوگوں میں بی جے پی حکومت کے خلاف سخت غصہ ہے۔ یہاں ٹورسٹ پارک تعمیر کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن نہیں کیا گیا۔ پیٹھے والوں سے لے کر جوتے والے تک ہر کوئی پریشان ہے۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پورے 5 سال یہاں نظر نہیں آئے ہیں اسی لئے انہیں امیدوار نہیں بنایا گیا ہے اس کے باوجود بی جے پی کی دال یہاں سے گلنے والی نہیں۔

دوسرے مرحلہ میں بلند شہر میں بھی پولنگ ہے۔ یہاں سے سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کے نزدیکی بھولا سنگھ میدان میں ہیں، بلند شہر میں گزشتہ ایک سال کے دوران کافی تناؤ رہا ہے۔ بلند شہر میں گئو کشی کے شک میں تشدد کے دوران انسپکٹر سبودھ کو قتل کر دیا گیا تھا۔ انسپکٹر کے قتل کا الزام ہندو وادی تنظیموں کے رہنماؤں پر لگا۔ بجرنگ دل کے ضلع کنوینر یوگیش راج سمیت کئی لوگوں کے خلاف پولس فرد جرم دائر کر چکی ہے۔

سیانہ کے اروند شرما کہتے ہیں کہ اس مرتبہ بی جے پی کے بھولا سنگھ آسانی سے نہیں جیت پائیں گے۔ 2014 میں وہ چار لاکھ ووٹوں سے جیتے تھے لیکن اس مرتبہ ان کی ہار طے ہے۔ بی جے پی مخالف ووٹر بے حد سمجھداری سے ووٹ کر رہا ہے، یہ ہر کوئی پہلے مرحلہ کی ووٹنگ میں یہ دیکھ بھی چکا ہے۔ بھولا سنگھ ہر معاملہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی تاک میں رہتے ہیں، گاؤں گاؤں میں ان کی مخالفت ہو رہی ہے۔ بی جے پی کے قول و فعل میں زبردست تضاد ہے، اس مرتبہ اس کی واپسی ہونے کا کوئی امکان نہیں۔