قومی

ہائی پروفائل سری نگر پارلیمانی حلقے میں ووٹنگ کے لئے سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات

پولنگ کا عمل صبح سات بجے شروع ہوکر شام کے چھ بجے تک جاری رہے گا۔ عام انتخابات کے سبھی مرحلوں میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی 23 مئی کو ہوگی۔

تصویر یو این آئی

یو این آئی

سری نگر: ہائی پروفائل سری نگر پارلیمانی حلقے کے تحت آنے والے وسطی کشمیر کے تین اضلاع سری نگر، بڈگام اور گاندربل جہاں جمعرات کو ووٹ ڈالے جانے ہیں، میں سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

ریاست میں جمعرات کو پارلیمانی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں سری نگر پارلیمانی حلقہ کے علاوہ خطہ جموں کے چھ اضلاع پر مشتمل ادھم پور پارلیمانی نشست کے لئے بھی ووٹنگ ہونی ہے۔ تاہم انتظامیہ کے لئے سب سے بڑا چیلنج سری نگر پارلیمانی حلقے میں تشدد سے مبرا انتخابات کرانا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پُرامن پولنگ کو یقینی بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے ان اقدامات کی تفصیلات ظاہر کرنے سے معذرت ظاہر کی، تاہم بتایا کہ 2017ء جیسے حالات رونما نہیں ہوں گے۔

واضح رہے کہ سری نگر پارلیمانی نشست پر 9 اپریل 2017 کو ضمنی انتخابات شدید جھڑپوں اور کم ترین ووٹنگ شرح کے نذر ہوئے تھے۔ جہاں پولنگ کے دوران آزادی حامی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 9 شہری ہلاک جبکہ قریب 150 دیگر زخمی ہوئے تھے، وہیں پولنگ کی شرح محض 7 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی ۔ سب سے زیادہ تشدد کے واقعات ضلع بڈگام میں پیش آئے تھے۔

یہ ضمنی انتخابات ایک فوجی افسر کی طرف سے ایک عام کشمیری کو انسانی ڈھال بنانے کی وجہ سے عالمی سطح پر خبروں میں آگئے تھے۔ دراصل میجر لیٹول گوگوئی نامی ایک فوجی افسر نے فاروق احمد ڈار جو کہ ضلع بڈگام کے ژھل براس آری زال بیروہ کا رہنے والا ہے، کو پولنگ کے دوران انسانی ڈھال بناکر اپنی جیپ کے ساتھ باندھا تھا اور مختلف دیہات میں گھمایا تھا۔ میجر گوگوئی نے فاروق جس نے اپنے حق رائے دہی کا بھی استعمال کیا تھا، کواپنی گاڑیوں کے قافلے کو سنگ باری سے بچانے کے لئے اپنی جیپ کے ساتھ باندھا تھا۔
سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ ہر ایک پولنگ مرکز پر معقول تعداد میں فورسز اہلکار تعینات رہیں گے۔ انہوں نے بتایا 'فورسز اہلکاروں کو امن وقانون کی صورتحال سے نمٹنے کے دوران حد درجہ صبر وتحمل سے کام لینے کے لئے کہا گیا ہے'۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

سری نگر پارلیمانی حلقہ انتخاب جہاں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 لاکھ 95 ہزار 304 ہے، میں 12 امیدوار قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ تاہم اصل مقابلہ نیشنل کانفرنس کے ڈاکٹر فاروق عبداللہ، پیپلز کانفرنس کے عرفان رضا انصاری اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے آغا سید محسن کے درمیان ہے۔ 2017 کے ضمنی انتخابات میں یہ نشست فاروق عبداللہ نے جیتی تھی اور آج بھی جیت کے مضبوط دعویدار سمجھے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب ادھم پور پارلیمانی حلقہ انتخاب جہاں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 16 لاکھ 85 ہزار 779 ہے، میں بھی 12 امیدوار میدان میں ہیں۔ خطہ جموں کے چھ اضلاع ادھم پور، کٹھوعہ، ریاسی، کشتواڑ، ڈوڈہ اور رام بن پر پھیلے اس حلقے میں اصل مقابلہ بی جے پی کے ڈاکٹر جتیندر سنگھ، کانگریس کے وکرم ادتیہ سنگھ ، ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن کے چوہدری لال سنگھ اور نیشنل پنتھرس پارٹی کے ہرش دیو سنگھ کے درمیان ہے۔ جتیندر سنگھ اور وکرم ادتیہ کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں یہ نشست ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جیتی تھی جنہوں نے سینئر کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد کو قریب 60 ہزاروں ووٹوں کے فرق سے ہرایا تھا۔

انتخابی کمیشن کے مطابق سری نگر اور ادھم پور میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 29 لاکھ 81 ہزار 83 ہے۔ ان میں مرد ووٹروں کی تعداد 15 لاکھ 43 ہزار 571، خواتین ووٹروں کی تعداد 14 لاکھ 63 ہزار 387 اور خواجہ سرا ووٹروں کی تعداد 69 ہے۔ انتخابات کے احسن انعقاد کے لئے دونوں حلقوں میں مجموعی طور 4 ہزار 426 پولنگ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

پولنگ کا عمل صبح سات بجے شروع ہوکر شام کے چھ بجے تک جاری رہے گا۔ عام انتخابات کے سبھی مرحلوں میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی 23 مئی کو ہوگی۔ ریاست میں 18 اپریل کو ان علاقوں میں تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے جن میں پارلیمانی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے تحت ووٹ ڈالے جانے ہیں۔ مزاحمتی قیادت نے پولنگ والے علاقوں میں ہڑتال اور انتخابات کے بائیکاٹ کی کال دے رکھی ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

سری نگر پارلیمانی نشست پر 9 اپریل 2017ء کو شدید آزادی حامی مظاہروں اور جھڑپوں کے درمیان ہونے والے ضمنی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ نے 48 ہزار 554 ووٹ لیکر کامیابی اپنے نام کی تھی۔ پی ڈی پی کے امیدوار نذیر احمد خان 37 ہزار 779ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ اس طرح سے فاروق عبداللہ نے اپنے مد مقابل نذیر خان کو 10 ہزار 775 ووٹوں کے فرق سے ہرایا تھا۔ فاروق عبداللہ کی جیت کے ساتھ نیشنل کانفرنس نے اپنا سیاسی قلعہ واپس حاصل کیا تھا۔

سری نگر پارلیمانی نشست پر سال 2014ءکے پارلیمانی انتخابات میں پی ڈی پی کی ٹکٹ پر لڑنے والے طارق حمید قرہ نے فاروق عبداللہ کو 42 ہزار 280 ووٹوں کے فرق سے ہرایا تھا۔ تاہم سنہ 2016 کی ایجی ٹیشن کے دوران مسٹر قرہ کے پی ڈی پی اور بحیثیت پارلیمنٹ ممبر مستعفی ہوجانے کے بعد یہ نشست خالی ہوگئی تھی۔

9 اپریل 2017 کو سری نگر کی پارلیمانی نشست کے لئے ضمنی انتخابات کے تحت ہونے والی پولنگ وادی کی انتخابی تاریخ میں اب تک کے بدترین تشدد اور کم ترین شرح پر ختم ہوگئی تھی۔ پولنگ کے دوران آزادی حامی مظاہرین نے 38 پولنگ اسٹیشنوں میں سیکورٹی فورسز اور انتخابی عملے پر حملہ کرکے انہیں اپنے قبضے میں لے لیا تھا جس کی وجہ سے پولنگ کے عمل کو بیچ میں ہی روکنا پڑا تھا۔ ان میں سے ایک پولنگ اسٹیشن وہ بھی تھا جہاں احتجاجی مظاہرین نے قریب ایک درجن سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اہلکاروں کو کم از کم پانچ گھنٹوں تک یرغمال بنا رکھا تھا۔ جہاں بدترین آزادی حامی جھڑپوں کے بیچ ہونے والے ضمنی انتخابات میں پولنگ کی شرح محض 7 اعشاریہ 14 ریکارڈ کی گئی تھی، وہیں جن 38 پولنگ اسٹیشنوں پر 13 اپریل کو ری پولنگ کی گئی تھی، میں ووٹوں کی شرح محض 2 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ ان 38 میں سے 26 پولنگ اسٹیشنوں پر ایک بھی ووٹ نہیں ڈالا گیا تھا۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
کشمیر کے علاوہ کئی اور ریاستوں میں بھی کل ووٹنگ ہوگی

پولنگ کے دوران آزادی حامی احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین بدترین جھڑپوں میں بڈگام اور گاندربل اضلاع میں 8 عام شہری ہلاک جبکہ قریب 150 دیگر زخمی ہوگئے تھے۔وسطی کشمیر میں شہری ہلاکتوں سے پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر الیکشن کمیشن آف انڈیا نے جنوبی کشمیر کے چار حساس اضلاع اننت ناگ، پلوامہ، کولگام اور شوپیان پر مشتمل اننت ناگ پارلیمانی نشست کے لئے 12 اپریل 2017 کو ہونے والے انتخابات ملتوی کئے تھے جو بعد میں منعقد نہیں کرائے گئے۔

دریں اثنا انتخابی کمیشن کی طرف سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق سری نگر، بڈگام اور گاندربل اضلاع کے 15 اسمبلی حلقوں پر مشتمل سری نگر پارلیمانی حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 لاکھ 95 ہزار 304 ہے جس میں 12 لاکھ 94 ہزار 560 جنرل ووٹر اور 744 سروس ووٹر شامل ہیں۔ جنرل ووٹروں میں مرد ووٹروں کی تعداد 6 لاکھ 67 ہزار 252 اور خواتین ووٹروں کی تعداد 6 لاکھ 27 ہزار 282 ہے۔ سروس ووٹروں میں 728مرد ووٹر اور 16خواتین ووٹر ہیں جبکہ خواجہ سرا ووٹروں کی کل تعداد 26 ہیں۔

چناؤ عمل کے منصفانہ انعقاد کے لئے حکام نے پورے پارلیمانی حلقے میں 1716 پولنگ مراکز قائم کئے ہیں۔ اس حلقے میں جو امید وار میدا ن میں ہیں اُن میں بھارتیہ جنتاپارٹی کے خالد جہانگیر، پی ڈی پی کے آغاسید محسن ،نیشنل پنتھرس پارٹی کے عبدالرشید گنائی، نیشنل کانفرنس کے ڈاکٹر فاروق عبداللہ، جنتا دل یونائیٹڈ کے شوکت حسین خان، شیو سینا کے عبدالخالق بٹ، پیپلز کانفرنس کے عرفان رضا انصاری، راشٹر یہ جن کرانتی پارٹی کے نذیر احمد لون، مانو ادھیکار نیشنل پارٹی کے نذیر احمد صوفی کے علاوہ آزاد امید وار بلال سلطان، سجاد احمد ڈار، عبدالرشید بانڈے شامل ہیں۔ 2017ء کے ضمنی انتخابات میں سری نگر پارلیمانی حلقے میں ووٹروں کی کل تعداد 12 لاکھ 61 ہزار 395 تھی۔

انتخابی کمیشن کے مطابق ادھم پور پارلیمانی حلقے میں جن اُمیدواروں کے مابین مقابلہ ہو رہا ہے اُن میں بہو جن سماج پارٹی کے تلک راج بھگت، بھارتیہ جنتا پارٹی کے ڈاکٹر جتیندر سنگھ، انڈین نیشنل کانگریس کے وکرم ادتیہ سنگھ ، جے کے نیشنل پنتھرس پارٹی کے ہرش دیو سنگھ ، ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن کے چوہدری لال سنگھ، نورنگ کانگریس پارٹی کے محمد ایوب، شیو سینا کی میناکشی کے علاوہ آزاد امید وار بنسی لال، راکیش مڈگل، شبیر احمد، غریب سنگھ اور فردوس احمد شامل ہیں۔

ادھم پور پارلیمانی نشست کے لئے ووٹروں کی کل تعداد 16 لاکھ 85 ہزار 779 ہے جن میں 16 لاکھ 65 ہزار 467 جنرل ووٹروں کے بطور درج ہیں جبکہ سروس ووٹروں کی تعداد 20 ہزار 312 ہے۔ جنرل ووٹروں میں مرد ووٹروں کی تعداد 8 لاکھ 76 ہزار 319 اور خواتین ووٹروں کی تعداد 7 لاکھ 89 ہزار 105 ہے۔ سروس ووٹروں میں 20 ہزار 52 مرد اور 260خواتین شامل ہےں جبکہ خواجہ سرا ووٹروں کی تعداد 43 ہے۔

اس پارلیمانی حلقہ میں انتخابات کے آزادانہ اور منصفانہ انعقاد کے لئے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے 2710 پولنگ مراکز قائم کئے ہیں۔ 2014 کے عام انتخابات میں اس پارلیمانی حلقے میں رائے دہندگان کی کل تعداد 14 لاکھ 69 ہزار 72 تھی۔