کشمیر: جذباتی نعروں سے عوام کا دل موم بنانے کی کوشش

جلسوں کے دوران کارکنوں کی طرف سے انتہائی ولولہ انگیز اور جوشیلے نعرے لگائے گئے جو نہ صرف جلسوں میں لوگوں کی دلچسپی اور جوش کے موجب بنے بلکہ لیڈروں کے لئے بھی سامان فرحت بھی مہییا کرتے رہے۔

تصویر قومی آواز گرافکس
تصویر قومی آواز گرافکس

یو این آئی

سری نگر: وادی کشمیر کے تمام اضلاع میں جہاں سال گذشتہ ہوئے پنچایتی و بلدیاتی انتخابات کے دوران سیاسی روایتی جوش وخروش مفقود رہا وہیں رواں عام انتخابات کے دوران وادی کے دس میں سے چھ اضلاع میں انتخابی مہم کے دوران سیاسی گہما گہمی کے مختلف النوع نظارے دیکھے گئے۔

شمالی کشمیر کے تین اضلاع بارہمولہ، بانڈی پورہ اور کپوارہ اور وسطی کشمیر کے تین اضلاع سری نگر، بڈگام اور گاندربل میں جہاں انتخابی مہم کے دوران کافی سیاسی جوش وخروش دیکھنے کو ملا وہیں جنوبی کشمیر کے چاروں اضلاع اننت ناگ، پلوامہ اور کولگام اور شوپیاں میں سیاسی ماحول سرد ہی رہا۔

انتخابی ریلیوں اور جلسوں کے دوران کارکنوں کی طرف سے انتہائی ولولہ انگیز اور جوشیلے نعرے لگائے گئے جو نہ صرف جلسوں میں لوگوں کی دلچسپی اور جوش کے موجب بنے بلکہ لیڈروں کے لئے بھی سامان فرحت بھی مہییا کرتے رہے۔ انتخابی جلسوں کے دوران لگائے گئے یہ نعرے سوشل میڈیا پر بھی نہ صرف موضوع بحث رہے بلکہ تفنن طبع کے بھی باعث بھی بن گئے۔

ان نعروں میں خاص طور پر شیر کا ذکر کافی دلچسپ تھا کیونکہ شیر جو بہادری کی علامت ہے، کو تمام پارٹیوں کے کارکنان اپنے اپنے لیڈروں کے لئے استعمال کرتے رہے۔

جوں ہی کسی پارٹی کا لیڈر اپنی گاڑی جس کے گرد وپیش حفاظتی حصار اس قدر سنگین ہوتا تھا کہ پرندے بھی پر مارنے کی جرآت نہیں کرتے تھے، سے قدم باہر رکھتا تھا تو اس کے حمایتی و ہمدرد بہ یک زبان تاحد طاقت وتوانائی 'دیکھو دیکھو کون آیا شیر آیا شیر آیا' یا 'نقلی شیرا یتہ وٹ ڈھیرا اصلی شیرا آگیا (یعنی نقلی شیر یہاں سے بھاگ جاؤ کیونکہ اب یہاں اصلی شیر آیا ہے)' کے نعرے بلند کرتے دیکھے گئے۔

تمام سیاسی پارٹیاں یہاں تک کہ آزاد امیدواروں نے بھی شمالی وجنوبی کشمیر کے اطراف و اکناف میں درجنوں انتخابی جلسے کیے اور متذکرہ نعرے تمام پارٹیوں کے کارکنوں نے بلند کیے بلکہ آزاد امیدواروں کے مٹھی بھر ہی سہی، کارکنوں نے بھی اپنے امیدواروں کو اصلی شیر کے بطور پیش کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔

انتخابی جلسوں میں ایسے نعرے بھی بلند کیے گئے جو مزاحمتی جلسوں کے دوران بھی بلند ہوتے ہوتے ہیں جیسے یہ نعرہ جو مزاحمتی قائدوں کے طرف سے احتجاجوں کے دوران بھی بکثرت دیا جاتا ہے ’جس کشمیر کو خون سے سینچا وہ کشمیر ہمارا ہے‘ کو بھی اکثر انتخابی جلسوں میں نوجوانوں نے بلند کیا۔

اسی اثنا میں وادی کے کسی علاقے میں لوگوں نے ایک تندوا پکڑا تو انہوں نے بھی تیندوے کو کاندھے پر اٹھا کر جلوس بر آمد کرکے 'نقلی شیرا یتہ وٹ ڈھیرا اصلی شیرا آگیا' کی جم کر نعرہ بازی کی اور اس جلوس کا بھی ویڈیو تیار کرکے وائرل کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو بھی جہاں لوگوں کے لئے بحث کا موضوع بنا وہیں نقلی شیرا کا نعرہ دینے والوں کے لئے باعث مذاق بھی بن گیا۔

کشمیر کے حالات پر دقیق نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیروں کا دل جیتنے کے لئے ہمیشہ سے لھبانے والے اور جذباتی نعروں کا استعمال کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیروں کو جذباتی نعروں سے پھنسایا جانا کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ کسی نے قرآن کی تلاوت کرکے تو کسی نے علامہ اقبال کے انقلاب آفرین اشعار پڑھ کے کشمیریوں کے دلوں کو موم کرکے اپنے سیاسی گلستانوں کو سینچا ہے۔

کشمیر یونیورسٹی کے ایک ریسرچ اسکالر نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا ’کشمیری سادہ مزاج ہیں، ہر کسی کی باتوں میں آجاتے ہیں اور جذباتی نعروں سے جوش میں آکر اپنا اعتماد ہر اُس شخص کو دیتے ہیں جس کو انہوں نے ماضی میں بارہا آزمایا بھی ہوتا ہے۔‘

تاہم سری نگر پارلیمانی نشست جس کے لئے پولنگ 18 اپریل کو ہو رہی ہے، کی انتخابی مہم گذشتہ شام اختتام پذیر ہونے کے ساتھ ہی وادی کے وسطی اضلاع میں انتخابی جلسوں کا سلسلہ بند ہوکر نعرہ بازی تھم گئی۔ انتخابات کے نتائج آنے کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ اصلی شیرا کس پارٹی کے امیدوار ہیں لیکن کشمیریوں کے مسائل ومشکلات کو سلجھانے والا حقیقی شیر کہیں نظر ہی نہیں آرہا ہے۔