دہلی: عآپ-کانگریس کی کشمکش میں ڈولتے نظر آئے اوکھلا کے ووٹرس

عآپ امیدوار آتشی کو ایک مضبوط امیدوار مانتے ہوئے کئی مسلمانوں نے ووٹ دیا تو اروندر سنگھ لولی کو لوگ صرف اس وجہ سے ووٹ دیتے نظر آئے کیونکہ وہ ’کانگریس‘ سے ہیں اور کانگریس قومی پارٹی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

تنویر احمد

صبح تقریباً 10 بجے اوکھلا واقع شاہین باغ کے ’ابوالکلام آزاد بوائز پبلک اسکول‘ میں ووٹروں کی کئی لائنیں لگی ہوئی تھیں۔ بہت زیادہ بھیڑ نہیں تھی لیکن ووٹرس پرجوش نظر آ رہے تھے۔ کچھ خواتین میرے پاس آئیں اور اپنے پاس موجود پرچی دکھا کر پوچھا کہ ’’کس لائن میں لگنا ہے؟‘‘ میں نے بتا دیا اور کہہ دیا کہ جس پارٹی کو ووٹ دینا ہے اس کے سامنے والا بٹن دبا دیں۔ ایک ضعیف خاتون نے مجھ سے پوچھ لیا ’’کانگریس کا بٹن کہاں پر ہوگا؟‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا ’’سب سے اوپر‘‘۔

کچھ اسی طرح کے سوال کئی خواتین نے مجھ سے پوچھے اور میں نے انھیں ووٹنگ مشین کے بارے میں تفصیل سے بتا دیتا۔ میں ابوالکلام آزاد بوائز پبلک اسکول پولنگ بوتھ پر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے رہا۔ حالات دیکھ کر اندازہ ہوا کہ وہاں ووٹ دینے آ رہے رائے دہندگان کا جھکاؤ کانگریس کی جانب ہے اور عآپ کی جانب اتنا رجحان نہیں ہے ۔ کانگریس کارکنان بھی یہاں پر متحرک تھے اور ووٹروں کا ووٹر شناختی کارڈ دیکھ کر انھیں پرچی دینے میں پیش پیش تھے۔ جب میں وہاں کی دو تین گلیوں سے گزرا تو ماحول بالکل کانگریس کے حق میں نظر آ رہا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ مسلم ووٹ تقسیم نہیں ہو رہا۔ لیکن جب ’شاہین پبلک اسکول‘ کے پاس پہنچا تو مجھے احساس ہوا کہ میں غلط تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

شاہین پبلک اسکول کے پاس میں نے تقریباً ایک گھنٹے گزارے۔ وہاں مجھے لمبی لائنیں نظر آئیں۔ کانگریس کارکنان یہاں بھی پرچیاں بناتے ہوئے نظر آئے، لیکن جو چیز حیران کرنے والی تھی وہ یہ کہ لوگ ’کانگریس-کانگریس‘ کرتے ہوئے ووٹ ڈالنے اندر جا رہے تھے اور باہر نکلنے کے بعد پتہ چلتا تھا کہ انھوں نے اپنی رائے کا اظہار عآپ کے حق میں کیا ہے ۔ کچھ لوگوں سے بات کرنے پر پتہ چلا کہ وہ پہلے سے ذہن بنا کر آئے تھے کہ آتشی کو ووٹ دینا ہے، اور گھر کے تمام افراد نے بھی ذہن بنا رکھا تھا ، اس لیے بوتھ کے باہر وہ کچھ بھی کہتے تھے لیکن ووٹ آتشی یعنی عآپ کو ہی دیتے تھے۔

اس کے بعد جامعہ نگر کی کچھ دیگر بوتھوں کا بھی جائزہ لیا اور اسی نتیجے پر پہنچا کہ ووٹ کانگریس اور عآپ کے درمیان بری طرح سے تقسیم ہو رہا ہے۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ ووٹرس بھی آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ ووٹ تقسیم ہو رہا ہے، لیکن وہ اس کشمکش میں تھے کہ آخر کانگریس اور عآپ میں سے کس کو منتخب کریں۔ سبھی اپنے اپنے حساب سے انتخاب کرتے رہے۔ کسی نے کانگریس کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا تو کسی نے عآپ کے حق میں ۔ ہاں، یہ دیکھنے کو ضرور ملا کہ 2 بجے کے بعد لوگ کانگریس کے حق میں متحد ہوتے ہوئے نظر آئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

شام تقریباً 4 بجے ایک بار پھر میں حالات کا جائزہ لینے گھر سے نکلا اور تین چار بوتھوں کے باہر لوگوں سے بات چیت کی تو کانگریس کے حق میں ووٹ زیادہ پڑتے ہوئے نظر آئے۔ پھر میں ایک گوشت کی دکان پر پہنچا اور اس سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ لوگوں کا رجحان کس طرف جاتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اس نے سیدھا جواب دیا ’’کانگریس کا تو حق ہے، کانگریس کو ہی ووٹ جانا چاہیے اور لوگ اسی کو ووٹ دے رہے ہیں۔‘‘ میں نے اس سے پوچھا کہ کانگریس کی طرف سے کون امیدوار ہے تمھیں پتہ ہے؟ اس نے کہا ’’یہ تو معلوم نہیں، لیکن میں نے کانگریس کو ووٹ دیا، ایک نمبر پر۔‘‘ میں مسکرا کر وہاں سے نکل گیا۔ میری کچھ دیگر لوگوں سے بھی بات ہوئی جنھوں نے کانگریس کو ووٹ دیے لیکن وہ اروندر سنگھ لولی سے بہت خوش نظر نہیں آئے۔ گویا کہ انھوں نے ’امیدوار‘ کو نہیں ’پارٹی‘ کو ووٹ دیا۔

میں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سینئر سیکنڈری اسکول کے ایک استاذ سے فون پر بات کی اور پوچھا کہ ان کی طرف کیا رجحان رہا اور انھوں نے کس کو ووٹ دیا۔ پتہ چلا کہ صبح کے وقت آتشی کو ہی ووٹ گئے تھے اور پھر وہ گریٹر نوئیڈا نکل گئے۔ انھوں نے 12 بجے تک کا جو رجحان اپنے بوتھ کا بتایا وہ آتشی کے حق میں تھا اور ان کا کہنا تھا کہ ’’کانگریس نے اپنا سب سے کمزور امیدوار مشرقی دہلی کو دیا۔ اگر کانگریس نے کوئی بہتر امیدوار کھڑا کیا ہوتا تو اس کو ضرور فائدہ ہوتا۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

شام تقریباً 6.30 بجے میری ملاقات 3-2 دوستوں سے ہوئی۔ میں نے ان سے بھی جاننے کی کوشش کی کہ ان کی طرف کس طرح کا رجحان دیکھنے کو ملا۔ جوہری فارم کی طرف رہنے والے ایک دوست نے عآپ کے حق میں زیادہ ووٹ پڑنے کی بات کہی اور ساتھ میں یہ افسوس بھی ظاہر کیا کہ رات تک کانگریس کے حق میں ہوا نظر آ رہی تھی لیکن پتہ نہیں کیسے صبح میں جامعہ کے اسٹوڈنٹس اور مقامی لوگ آتشی کو ووٹ دے آئے۔ کچھ لوگ تو یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ آتشی کو ووٹ پڑ رہا ہے اور ووٹوں کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے اس لیے کانگریس کو ووٹ نہیں دیا گیا۔ شاہین باغ کے ایک دوست سے جب بات ہوئی تو انھوں نے بھی آتشی کے حق میں زیادہ ووٹ پڑنے کی بات کہی۔ اس کی جو وجہ انھوں نے بتائی وہ قابل توجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آتشی کے مذہب کو لے کر جو افواہ پھیلائی گئی اس کا فائدہ آتشی کو ملا اور لوگ اس بات سے مایوس تھے کہ کانگریس لیڈر آصف محمد خان پر اس طرح کی حرکت کرنے کا الزام ہے ۔ آتشی کے کردار پر کیچڑ اچھالنے والے اس پمفلٹ کا فائدہ بھی آتشی کو ملا جس کے بارے میں عآپ امیدوار نے کہا کہ بی جے پی امیدوار گوتم گمبھیر نے اسے تقسیم کرایا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

بہر حال، سب سے لاجواب لمحہ تو میرے لیے وہ تھا جب میں ایک حجام کے یہاں بیٹھا ہوا تھا اور ایک لڑکا اپنے بال بنوانے کے لیے آیا۔ حجام نے پوچھا کہ کس کو ووٹ دیا۔ وہ انتہائی پرجوش انداز میں کہتا ہے ’’گوتم گمبھیر کو دیا۔ مجھے اپنا ووٹ برباد تھوڑے ہی کرنا تھا۔ آتشی اور اروندر کے بیچ ووٹ تقسیم ہو رہا ہے تو جیت گمبھیر کی ہی ہوگی۔‘‘ 22-20 سال کے اس لڑکے کے جواب اور اس جواب کے پیچھے چھپی سچائی بڑے بڑوں کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس سیلون میں بیٹھے سبھی لوگ اس لڑکے کا جواب سن کر کچھ بول نہیں پائے۔

Published: 13 May 2019, 12:10 PM