لوک سبھا: گاندھی خاندان کی سیکورٹی میں تخفیف پر ہنگامہ، حزب اختلاف کا واک آؤٹ

چودھری نے کہا کہ یہ کوئی معمولی سیکورٹی کے حامل شخص نہیں ہیں۔ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی پر دہشت گردانہ حملہ کے بعد تمام سابق وزرائے اعظم اور ان کے خاندانوں کو ایس پی جی سیکورٹی دی گئی تھی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: اپوزیشن پارٹی کانگریس اور دراوڑ منتر كشگم (ڈی ایم کے) نے گاندھی خاندان کے ارکان کی سیکورٹی میں تخفیف کا معاملہ منگل کو لوک سبھا میں اٹھایا اور بعد میں ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے وقفہ صفر میں یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ گاندھی خاندان کے ارکان کی جان خطرے میں ہے۔ انہوں نے کہا ’’یہ کوئی معمولی سیکورٹی کے حامل شخص نہیں ہیں۔ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی پر دہشت گردانہ حملہ کے بعد تمام سابق وزرائے اعظم اور ان کے خاندانوں کو ایس پی جی سیکورٹی دی گئی تھی‘‘۔

چودھری نے کہا کہ دہشت گردانہ حملہ میں راجیو گاندھی کی موت کے بعد 1991 سے سال 2019 تک گاندھی خاندان کو باقاعدگی سے ایس پی جی سیکورٹی حاصل تھی۔ اس دوران دو بار قومی جمہوری اتحاد کی بھی حکومت رہی، لیکن گاندھی خاندان کی سیکورٹی کم نہیں کی گئی۔

اس پر پارلیمانی امور کے وزیر ارجن رام میگھوال نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اسی معاملہ پر کانگریس کا تحریک التوا کا نوٹس اسپیکر مسترد کر چکے ہیں۔ وقفہ صفر کے لئے چودھری نے اس معاملہ کی پہلے سے اطلاع نہیں دی ہے۔ ایسے میں وہ کس طرح یہ مسئلہ اٹھا سکتے ہیں۔

اسپیکر اوم برلا نے چودھری کو آگے بولنے سے روکتے ہوئے ضابطہ کے تحت یہ مسئلہ اٹھانے کے لئے کہا۔ اس کے بعد کانگریس کے کئی ممبران اپنے اپنے مقام پر کھڑے ہو گئے۔ چودھری نے کچھ بولنے کی کوشش کی، لیکن انہیں اس کی اجازت نہ دینے پر کانگریس کے ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

ڈی ایم کے کے لیڈر ٹی آر بالو نے بھی یہی معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ کانگریس صدر اور راجیو گاندھی کی اہلیہ سونیا گاندھی کو حکومت نے (ایس پی جی) سیکورٹی نہیں دی ہے۔ ان کا اتنا کہتے ہی اسپیکر نے انہیں روک دیا۔ اس کے بعد ان کی پارٹی کے ارکان نے بھی ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

Published: 19 Nov 2019, 7:11 PM