بھگوا دہشت گردی کی ملزمہ ’سادھوی پرگیہ‘ کو بی جے پی نے بنایا بھوپال سے امیدوار

بی جے پی نے مالیگاؤں بم دھماکہ کی ملزمہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو ریاست کے سابق وزیراعلی اور کانگریس کےسینئر لیڈر دگ وجے سنگھ کے خلاف انتخابی میدان میں اتارا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: بھارتیہ جنتاپارٹی نے مدھیہ پردیش کی بھوپال لوک سبھا سیٹ سے مالیگاؤں بم دھماکہ معاملے میں ملزمہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو ریاست کے سابق وزیراعلی اورکانگریس کےسینئر لیڈر دگ وجے سنگھ کے خلاف انتخابی میدان میں اتاراہے۔

سادھوی پرگیہ مالیگاؤں میں 2008 میں ہوئے بم دھماکوں کی سازش رچنے کے الزام میں 9 سال تک جیل میں رہ چکی ہے، بدھ کے روز اس نے باضابطہ طور پر بی جے پی کی رکنیت اختیار کر لی۔ اس کے فوری بعد بی جے پی نے اسے بھوپال سے دگوجے سنگھ کے خلاف انتخابی میدان میں اتارنے کا اعلان کر دیا۔

سادھوی پرگیہ کے بھوپال سے بی جے پی کی امیدوار بنائے جانے پر کئی دنوں سے چہ میگوئیاں چل رہی تھیں۔ اس درمیان بدھ کو انہوں نے بھوپال واقع بی جے پی کے دفتر پہنچ کر شیو راج سنگھ چوہان کی موجودگی میں بی جے پی کی رکنیت حاصل کر لی۔ اس موقع پر سادھوی پرگیہ نے کہا، ’’میں رسمی طور سے بی جے پی میں شامل ہو گئی ہوں۔ میں چناؤ لڑوں گی اور جیتوں گی۔‘‘ بھوپال سے چناؤ لڑنے کے سوال نے اس نے کہا، ’’بھوپال حلقہ میں دگوجے سنگھ میرے لئے چیلنج نہیں ہیں۔ میری زندگی قوم کے لئے وقف ہے لہذا جو ضروری ہوگی میں وہی کروں گی۔‘‘

بی جے پی نے اس کےعلاوہ ودیشا سیٹ سے وزیرخارجہ سشما سوراج کی جگہ رماکانت بھارگوکو، گونا سیٹ سے ڈاکٹر کے پی یادو کو اور ساگر سیٹ سے راج بہادرسنگھ کو امیدوار بنایاہے ۔گونا سیٹ پر ڈاکٹر یادو کا مقابلہ کانگریس جنرل سکریٹری جیوترآدتیہ سندھیا سے ہوگا۔

سشما سوراج نے پہلے ہی اعلان کردیاتھا کہ وہ خرابی صحت کی وجہ سے اس بار لوک سبھا انتخاب نہیں لڑیں گی ۔ساگر سیٹ سے پچھلے انتخاب میں ڈاکٹر لکشمی نارائن نے یادو بی جے پی کے ٹکٹ پر فتح حاصل کی تھی ،اس بار پارٹی نے انھیں امیدوار نہیں بنایاہے ۔

بی جے پی کی نظر میں ہر مسلمان دہشت گرد ہے: محبوبہ

جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کے سنہ 2008 مالیگاؤں بم دھماکے کی ملزمہ سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کو ٹکٹ دینے کی سخت مذمت کرتے ہوئے بدھ کے روز کہا کہ بی جے پی کے لیے جب بھگوا قدامت پرستی کی بات آتی ہے تو دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ورنہ تمام مسلمان دہشت گرد ہیں۔

پیپلس ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ نے ٹویٹ کیا، ’تصور کیجیے اگر میں نے کسی دہشت گردی کے ملزم کو امیدوار بنایا ہوتا! ان لوگوں (بی جے پی) کے مطابق جب بھگوا قدامت پرستی کی بات آتی ہے تو دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا لیکن مسلمانوں کا نام آنے پر ہر مسلمان دہشت گرد ہے۔ جب تک بری نہیں ہوجاتا تب تک مجرم مانا جاتاہے‘۔

غور طلب ہے کہ بی جے پی نے سادھوی پرگیا کو مدھیہ پردیش کے دار الحکومت بھوپال سے سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس کے امیدوار دگوجے سنگھ کے خلاف امیدوار بنایا ہے۔ سادھوی مالیگاؤں بم دھماکے کےملزمان میں سے ایک ہیں لیکن انھیں فی الحال عدات نے بری کردیا ہے۔