چار ریاستوں میں گنے گئے ووٹوں کی تعداد پولنگ سے زیادہ، بڑے کھیل کی طرف اشارہ!

تین سابق الیکشن کمشنروں سے جب اس حوالہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس پر حیرانی کا اظہار کیا اور کہا کہ کمیشن کو اس پر صفائی دینی چاہیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

لوک سبھا انتخابت 2019 کے حوالہ سے ایک سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چار ریاستوں کی کئی سیٹوں پر ووٹ شماری کل ہوئی پولنگ سے زیادہ کی گئی ہے۔ جن سیٹوں کے حوالہ سے یہ انکشاف ہوا ہے اس میں تین ہائی پروفائل سیٹیں بہار کی پٹنہ صاحب، جہان آباد اور بیگو سرائے شامل ہے۔

ووٹوں کی گنتی کے حوالہ سے یہ رپورٹ ’نیوز کلک‘ ویب سائٹ پر شائع کی گئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ بہار، اتر پردیش، دہلی اور مدھیہ پردیش میں کچھ سیٹوں پر کل ہوئی پولنگ سے زیادہ تعداد میں ووٹ گنے گئے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جن پارلیمانی حلقوں میں ووٹوں کی گنتی کی جانچ ہوئی ان میں سے کم از کم ایک قسم کی گڑبڑی ہارنے والے امیدوار کے ووٹوں کے فرق سے بھی زیادہ ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں شائع ہوئی ہے جب نتائج کا اعلان ہونے کے بعد سے لگاتار الیکٹرانک ووٹنگ میشن (ای وی ایم ) میں بے ضابطگیاں ہونے کے الزام لگ رہے ہیں۔ حزب اختلاف نے بہار، اتر پردیش، ہریانہ سمیت کئی ریاستوں میں ای وی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ اور ووٹر ٹرن آؤٹ ایپ سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے حوالہ سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 20 لاکھ 51 ہزار 905 ووٹروں والے پٹنہ صاحب حلقہ انتخاب میں 46.34 فیصد پولنگ درج کی گئی ۔ وہاں 9 لاکھ 50 ہزار 852 ووٹ ڈالے گئے لیکن گنتی 9 لاکھ 82 ہزار 285 ووٹوں کی ہوئی۔ یعنی اس سیٹ پر 31 ہزار 433 ووٹوں کا فرق نظر آ رہا ہے۔ یہاں سے بی جے پی امیدوار نے 2.84 لاکھ ووٹوں سے جیت درج کی ہے۔

وہیں کل 19 لاکھ 54 ہزار 484 ووٹروں والی بیگوسرائے سیٹ پر 61.27 فیصد پولنگ ہوئی۔ یہاں 11 لاکھ 97 ہزار 512 ووٹ ڈالے گئے لیکن ووٹوں کی گنتی 12 لزاکھ 25 ہزار 594 ووٹوں کی ہوئی یعنی پولنگ اور ووٹوں کی گنتی میں کل 28 ہزار 82 ووٹوں کا فرق ہے۔ اس سیٹ پر بی جے پی امیدوار تقریباً چار لاکھ ووٹوں کے فرق سے جیتنے میں کامیاب رہا۔ رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ مشرقی دیلی، مدھیہ پردیش کی گنا اور مرینا، اتر پردیش کی بدایوں اور فرخ آباد کی سیٹیں ہیں جہاں پولنگ اور گنے گئے ووٹوں کی تعداد میں فرق ہے۔

اس معاملہ پر جب تین سابق الیکش کمشنروں سے سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اس معاملہ پر صفائی دینی چاہیے یا پھر ووٹوں کے اعداد میں گڑبڑی کے ایشو کو حل کرنا چاہیے۔ اس سے قبل پٹنہ صاحب سے ہارنے والے کانگریس رہنما شتروگھن سنہا نے شک ظاہر کیا کہ اس سیٹ پر کوئی بڑا کھیل تو ضرور ہوا ہے۔