کارروائی شروع ہونے کے ایک منٹ کے اندر ہنگامہ، لوک سبھا مسلسل تعطل کے بعد دن بھر کے لیے ملتوی

لوک سبھا میں کارروائی شروع ہونے کے ایک منٹ بعد ہی اپوزیشن کے ہنگامے پر ایوان ملتوی کر دیا گیا۔ راہل گاندھی کو بولنے کی اجازت کے معاملے پر تنازع جاری رہا اور دن بھر کارروائی نہ چل سکی

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: لوک سبھا کی کارروائی منگل کی صبح محض ایک منٹ چل سکی اور اپوزیشن کے شدید ہنگامے کے باعث ایوان کو ملتوی کرنا پڑا۔ صبح 11 بجے کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تھی لیکن 11 بج کر ایک منٹ پر ہی نعرے بازی کے سبب اسپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا، جس کے نتیجے میں ایوان میں صرف ایک منٹ کی کارروائی ہو پائی۔

اپوزیشن اراکین کی نعرے بازی گزشتہ ایک ہفتے سے جاری ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی کو ایوان میں بولنے کی اجازت دی جائے۔ اراکین کا کہنا ہے کہ جب تک اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جاتا، وہ ایوان کی کارروائی چلنے نہیں دیں گے۔ شور شرابے اور نعرے بازی کے باعث ایوان کا نظم برقرار نہ رہ سکا، جس پر اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔

اسپیکر کی جانب سے راہل گاندھی کو مرکزی بجٹ پر بحث کے دوران بولنے کی اجازت دینے کی بات کہی گئی، تاہم راہل گاندھی سابق فوجی سربراہ جنرل ایم ایم نروَنے کی غیر مطبوعہ کتاب کے معاملے پر گفتگو پر اصرار کرتے رہے۔ اسی نکتے پر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اختلاف مزید گہرا ہو گیا اور ہنگامہ بڑھتا چلا گیا۔


پیر کے روز بھی اسی معاملے پر ایوان میں شدید تنازع دیکھنے میں آیا تھا۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا تھا کہ اسپیکر اوم برلا نے انہیں یقین دلایا ہے کہ بجٹ پر بحث سے قبل انہیں بولنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس دعوے کی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے تردید کی، جس کے بعد ایوان میں شور شرابہ شروع ہوا اور اجلاس دن بھر کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔

منگل کو بھی پہلی مرتبہ ملتوی ہونے کے بعد لوک سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے دوبارہ شروع کی گئی، لیکن صرف سات منٹ بعد ہی ہنگامہ دوبارہ شروع ہو گیا۔ اپوزیشن اراکین نے نعرے بازی جاری رکھی اور خاموش ہونے سے انکار کر دیا، جس کے نتیجے میں اسپیکر نے اجلاس دن بھر کے لیے ملتوی کر دیا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ایوان کے اراکین اسپیکر سے ملے تھے اور انہیں ذاتی طور پر یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ ان کے مطابق اب اس یقین دہانی سے انکار کیا جا رہا ہے، جس پر وہ وضاحت چاہتے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ اسپیکر نے تمام جماعتوں کو قواعد کے مطابق بولنے کا موقع دینے کی بات کہی تھی۔ دونوں جانب کے موقف میں اختلاف برقرار رہا اور نتیجتاً لوک سبھا کی کارروائی تعطل کا شکار رہی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔