اب صحرائی ٹڈیوں کے دل کا حملہ

صحرائی ٹڈیاں پتے، پھول، پھل اور بیجوں کے علاوہ درخت تک چٹ کر جاتی ہیں۔ ایک کلو میٹر کے رقبے میں 40 ملین ٹڈیاں ہو سکتی ہیں، جو ایک دن میں 150 کلو میٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتی ہیں۔

ٹڈی دل
ٹڈی دل
user

قومی آوازبیورو

پوری دنیا کورونا کے قہرسے نبرد آزماں ہے اور اس کا اثر دنیا کی معیشت پر بھی پڑ رہا ہے۔ ہندوستان کی معیشت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور زرعات کی اچھی پیدوار سے امید ہے کہ یہ ہماری خراب معیشت کے دور میں مدد کرے گی، لیکن اس بیچ ٹڈیوں کے دلوں نے ملک کی کئی ریاستوں میں حملہ بول دیا ہے جس سے ان ریاستوں کی فصلیں برباد ہو سکتی ہیں۔

مہاراشٹرا، اترپردیش، پنجاب، راجستھان، گجرات، مدھیہ پردیش اور ہریانہ ان ٹڈیوں کے دل سے بری طرح متاثر ہوتے نظر آ رہے ہیں ۔ کھیتوں میں لہلہاتی فصلوں و سبزیوں کو دیکھتے ہی دیکھتے تباہ کردینے والے ٹڈی دَل کے جھنڈ نے اترپردیش میں دستک دے دی ہے اور راجستھان و مدھیہ پردیش کے سرحدی علاقوں میں سبزیوں اور سویا کی کھیتیوں کو نقصان پہنچانا شروع کردیا ہے۔

ریاستی حکومتیں اس حملہ سے نمٹنے کی ہر ممکن کوششیں کر رہی ہیں اور وہ کیڑوں کو مارنے کے لئے فضائی چھڑکاؤ کے سلسلہ میں ڈرونس کیلئے ٹنڈرس بھی طلب کر رہی ہے۔ ٹڈی دل کے حملہ سے ترکاری اور دالوں کی فصلوں کو نقصان ہو رہا ہے۔ یہ ٹڈی دل پہلے پڑوسی ملک پاکستان میں نقصان پہنچا ہے اور یہ دل ہندوستان میں وہیں سے آ یا ہے۔ ٹڈی دل کا جھنڈ مدھیہ پردیش اور راجستھان کی سرحد سے متصل اترپردیش کے جھانسی میں دیکھا گیا۔ جھانسی کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے اس کی تصدیق کی ہے کہ یہ ٹڈیاں ضلع میں راجستھان سے آئی ہیں۔

صحرائی ٹڈیاں پتے، پھول، پھل اور بیجوں کے علاوہ درخت تک چٹ کر جاتی ہیں۔ ایک کلو میٹر کے رقبے میں 40 ملین ٹڈیاں ہو سکتی ہیں اور ایک دن میں 150 کلو میٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتی ہیں۔ ٹڈیوں کا دل روزانہ 35 ہزار انسانوں کی خوراک ختم کر سکتا۔ یہ محسوس کیا گیا ہے کہ ان کی اڑان ندیوں کے کنارے کھیتوں کی جانب زیادہ ہے اور وہ کھیتوں کو زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

واضح رہے قومی آواز نے 19 فروری کو خبر شائع کی تھی جس میں ماہرین نے انتباہ کیا تھا کہ اپریل میں ٹڈی کے جھنڈ حملہ کر سکتے ہیں ۔اس وقت ان ٹڈی جھنڈوں نے مشرقی افریقہ میں حملہ کیا تھا جس کی وجہ سے وہاں بڑی تعداد میں فاقہ کشی کی نوبت آگئی تھی، وہاں پر ان حملوں سے پیدا ہوئی صورتحال کو انتہائی خطرناک بتایا تھا۔ اس وقت صحرائی ٹڈیوں نے ایتھوپیا، صومالیہ، کینیا تنزانیہ اور یوگنڈا کو سب سے زیادہ متاثر کیا تھا اور پاکستان نے بھی جنوری میں صحرائی ٹڈیوں سے نمٹنے کے لیے قومی ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔

next