لاک ڈاؤن: بھوکی تھی فیملی، مزدور نے 2500 کا موبائل بیچ کر خریدا راشن، پھر لگا لی پھانسی

گروگرام میں 35 سالہ مزدور چھبو منڈل اپنے ماں باپ، بیوی اور چار بچوں کے ساتھ محنت مزدوری کر کے زندگی گزار رہا تھا۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے فاقہ کشی کی نوبت آ گئی اور پھر خودکشی جیسا سخت قدم اٹھانا پڑا۔

خودکشی
خودکشی
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان میں لاک ڈاؤن کے درمیان فاقہ کشی اور غریبوں کی بدحالی کا معاملہ کئی ریاستوں سے لگاتار سامنے آ رہا ہے۔ اس درمیان ہریانہ سے ایک دردناک خبر سامنے آئی ہے جہاں اپنی فیملی کو بھوک پیاس سے پریشان دیکھ کر ایک مزدور نے اپنا موبائل 2500 میں فروخت کر دیا اور پھر اس پیسے سے کھانے پینے کا سامان خرید کر گھر لایا۔ بعد ازاں اپنی مفلسی و لاک ڈاؤن میں کام نہ ملنے سے پریشان مزدور نے پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔

میڈیا ذرائع میں آ رہی خبروں کے مطابق ہریانہ کے گروگرام میں 35 سالہ مزدور چھبو منڈل اپنے ماں باپ، بیوی اور چار بچے کے ساتھ محنت مزدوری کر کے زندگی گزار رہا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ بہار سے تعلق رکھنے والا چھبو منڈل گروگرام میں کافی مدت سے پینٹر کا کام کرتا آ رہا ہے، لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے سے کوئی بھی کام ملنا بند ہو گیا تھا۔ دھیرے دھیرے فاقہ کشی کی نوبت آ گئی۔ جمعرات کی صبح اس نے اپنا موبائل بیچنے کا فیصلہ کیا اور پھر کسی طرح 2500 روپے حاصل کر لیے۔

انگریزی روزنامہ 'انڈین ایکسپریس' میں شائع خبر کے مطابق 2500 روپے میں سے اس نے کچھ راشن خریدا اور ایک پورٹیبل پنکھا لے کر گھر پہنچا۔ جمعرات کی شام اس نے گھر کے پیچھے والے حصے میں اپنی بدحالی سے پریشان ہو کر پھانسی لگا لی۔ چھبو کی بیوی پونم کا کہنا ہے کہ راشن خرید کر وہ گھر پہنچے تھے جسے پکانے کی تیاری کر رہی تھی۔ بچے دادا-دادی کے ساتھ گھر کے باہر کھیل رہے تھے۔ اسی دوران چھبو منڈل نے گھر کے اندر سے دروازہ بند کر لیا اور ساڑی کا پھندا بنا کر پھانسی لگا لی۔

بتایا جاتا ہے کہ فیملی کی مالی حالت اس قدر خراب ہے کہ آخری رسوم ادا کرنے کے لیے بھی پاس میں پیسہ نہیں تھا۔ ڈی ایل ایف فیز-5 کے پیچھے سرسوتی کنج میں رہنے والی چھبو کی فیملی کی مدد کے لیے ان کے پڑوسی آگے آئے، تب جا کر آخری رسوم ادا کی جا سکی۔

پونم کا کہنا ہے کہ "وہ (چھبو منڈل) لاک ڈاؤن کی وجہ سے بہت پریشان ہو گئے تھے۔ ہمارے پاس کھانے پینے کا سامان نہیں تھا۔ نہ کام تھا اور نہ پیسہ۔ ہم پوری طرح سے حکومت کے ذریعہ تقسیم کیے جا رہے مفت کھانے پر منحصر تھے۔ لیکن وہ بھی روزانہ نہیں مل رہا تھا۔"

اس پورے معاملے میں گروگرام کے پولس افسر کا کہنا ہے کہ مزدور ذہنی طور پر کافی دن سے پریشان تھا اور اسی لیے اس نے خودکشی جیسا قدم اٹھایا۔ گروگرام سیکٹر53 پولس اسٹیشن کے ایس ایچ او نے کہا کہ "ہمیں معاملے کی خبر دوپہر بعد ملی۔ مہلوک مہاجر مزدور تھا اور کئی دنوں سے ذہنی طور پر پریشان تھا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش کو گھر والوں کے سپرد کر دیا گیا ہے۔"