گری راج کے بیان پر چراغ پاسوان کا سخت حملہ، کہا ’دہلی الیکشن میں پارٹی اپنا حشر دیکھ چکی‘

ایل جے پی سربراہ چراغ پاسوان کا کہنا ہے کہ ’’بہار اسمبلی الیکشن سے پہلے گری راج سنگھ کا بیان تخریبی ہے اور اس طرح کے بیانات کی حمایت ایل جے پی کبھی نہیں کر سکتی۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مودی حکومت میں وزیر گری راج سنگھ کے ذریعہ پورنیا میں دیے گئے متنازعہ بیان پر لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) رکن پارلیمنٹ چراغ پاسوان کا سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ این ڈی اے میں شریک پارٹی ایل جے پی مودی حکومت کے ہر فیصلے میں ہمیشہ ساتھ کھڑی رہتی ہے، حتیٰ کہ شہریت ترمیمی قانون معاملہ پر بھی ایوان میں اس نے پی ایم مودی کا ساتھ دیا۔ لیکن گری راج سنگھ کے بیان پر ایل جے پی سربراہ اور بہار کے جموئی سے رکن پارلیمنٹ چراغ پاسوان نے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

چراغ پاسوان نے گری راج سنگھ کے ذریعہ یہ کہے جانے پر اعتراض کیا کہ مسلمانوں کو 1947 میں ہی پاکستان بھیج دیا جانا چاہیے تھا۔ چراغ کا کہنا ہے کہ ’’بہار اسمبلی الیکشن سے پہلے گری راج سنگھ کا بیان تخریبی ہے اور اس طرح کے بیانات کی حمایت ایل جے پی کبھی نہیں کر سکتی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ایسے بیانات کی وجہ سے دہلی اسمبلی الیکشن میں پارٹی (بی جے پی) اپنا حشر دیکھ چکی ہے۔ ایسے بیانات توڑنے والے ہوتے ہیں اور ایسے سوچ کی ہم سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے ہوئے انتہائی متنازعہ بیان پورنیہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’1947 میں ہی سبھی مسلمانوں کو پاکستان بھیج دینا چاہیے تھا۔ ایسا نہیں کر کے ہمارے آبا و اجداد نے بڑی غلطی کی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کے نام پر ہندوستان مخالف ایجنڈا چلایا جا رہا ہے۔ سی اے اے پر جو زبان پاکستان بولتا ہے، وہی اپوزیشن کے لوگ بھی بول رہے ہیں۔‘‘

گری راج سنگھ نے آزادی اور تقسیم ہند کی بات کرتے ہوئے میڈیا سے کہا تھا کہ’’1947 کے پہلے ہمارے آبا و اجداد آزادی کی لڑائی لڑ رہے تھے اور جناح ملک کو اسلامک اسٹیٹ بنانے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ اس وقت ہمارے بڑوں سے بہت بڑی بھول ہوئی۔ اگر تبھی مسلمان بھائیوں کو وہاں (پاکستان) بھیج دیا جاتا اور ہندوؤں کو یہاں بلا لیا جاتا تو آج یہ نوبت ہی نہیں آتی۔‘‘ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ایک طالب علم کہتا ہے کہ جو ہماری قوم سے ٹکرایا ہے وہ برباد ہوا ہے۔ میں بھی کہنا چاہتا ہوں کہ یہاں بھی جو ہم سے ٹکرائے گا، برباد ہو جائے گا۔‘‘ گری راج سنگھ نے آگے کہا کہ ’’بھارت تیرے ٹکڑے ٹکڑے ہوں گے کے نعرے لگتے ہیں۔ اس لیے آج وقت آ گیا ہے کہ لوگوں کو ملک کے تئیں وفادار اور خودسپرد ہونا ہوگا۔‘‘